صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 61 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 61

صحيح البخاری جلد ۲ 11 ۵۹ - كتاب بدء الخلق عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَنْ (بن محمد ) نے ہمیں خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ سے روایت ہے۔ وہ کہتی تھیں: جس نے یونہی کہا کہ محمد وَلَكِنْ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت ہی بڑی وَخَلْقِهِ سَادًا مَا بَيْنَ الْأُفُقِ۔ بات کہی۔ البتہ آپ نے جبریل کو ان کی اپنی شکل میں دیکھا اور ان کا وجود افق کی ساری فضا میں سمایا ہوا تھا۔ اطرافه ۳۲۳۵، ٤٦١٢، ٤٨٥٥، ٧٣٨٠، ٧٥٣١۔ ٣٢٣٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۳۲۳۵ : محمد بن یوسف (بیکندی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ کیا کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ زکریا بن ابی زائدہ نے أَبِي زَائِدَةَ عَنِ ابْنِ الْأَشْوَعِ عَنِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن اشوع سے، انہوں نے الشَّعْبِي عَنْ مَّسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ شعبی سے شعبی نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں فَأَيْنَ قَوْلُهُ : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ نے کہا: میں نے حضرت عائشہ سے کہا: تو پھر اللہ تعالیٰ کے اس قول کے کیا معنی: ” یہ تمہارا ساتھی پھر اس کے قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى (النجم: ۹، ۱۰) : وو نزدیک ہوا اور وہ بھی نیچے جھکا اور دو کمانوں کے درمیانی قَالَتْ ذَاكَ جِبْرِيلُ كَانَ يَأْتِيهِ فِي فاصلے جتنا یا اس سے بھی زیادہ سے بھی زیادہ نزدیک ہو گیا۔ پھر اس صُورَةِ الرَّجُلِ وَإِنَّمَا أَتَى هَذِهِ نے اپنے بندے کو وحی کی ، وہی وحی جو اس نے کی ۔“ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ حضرت عائشہ نے جواب دیا: یہ تو جبریل ہیں جو آپ فَسَدَّ الْأُفُقَ۔ کے پاس مرد کی شکل میں آیا کرتے تھے اور اس دفعہ وہ اپنی اس شکل میں آئے جو ان کی شکل ہے اور سارے افق میں سمائے ہوئے تھے۔ اطرافه ٣٢٣٤، ٤٦١٢، ٤٨٥٥، 1380، 7531۔ ٣٢٣٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ۳۲۳۶: موسیٰ (بن اسماعیل ) نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ (انہوں نے کہا: ) ہم سے جریر ( بن حازم ) نے بیان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ کیا کہ ابو رجاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت سمرہ