صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 158 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 158

صحيح البخاری جلد 4 ۱۵۸ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامِ نے کہا: قیامت کی نشانیوں میں سے پہلی نشانی کیا ہے؟ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَنْزِعُ اور وہ کونسا پہلا کھانا ہے جو جنتی کھائیں گے؟ اور کس الْوَلَدُ إِلَى أَبِيْهِ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَنْزِعُ وجہ سے بچہ اپنے باپ سے مشابہ ہوتا ہے اور کس وجہ إِلَى أَخْوَالِهِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى سے اپنے نہال سے مشابہ ہوتا ہے؟ رسول اللہ اللہ نے فرمایا: مجھے جبریل نے ابھی ابھی یہ باتیں بتادی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَّرَنِي بِهِنَّ آنِفًا ہیں۔حضرت عبد اللہ نے کہا: یہ (جبریل ) ملائکہ میں جِبْرِيلُ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَاكَ عَدُوٌّ سے یہودیوں کا دشمن ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ نے فرمایا: قیامت کی علامتوں میں سے پہلی علامت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ وہ آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک کر لے جائے گی اور پہلا کھانا جو جنتی کھائیں گے السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ وہ فالتو ٹکڑا ہے جو مچھلی کے کلیجہ پر ہوتا ہے اور بچہ میں الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ جو مشابہت ہوتی ہے وہ اس لئے کہ جب مرد عورت طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ سے جماع کرتا ہے اگر مرد کا پہلے انزال ہو تو مشابہت حُوْتٍ وَأَمَّا الشَّبَهُ فِي الْوَلَدِ فَإِنَّ اس کی ہوتی ہے اور اگر عورت کا پہلے ہو تو مشابہت الرَّجُلَ إِذَا غَشِيَ الْمَرْأَةَ فَسَبَقَهَا مَاؤُهُ عورت کی ہوتی ہے۔(حضرت عبد اللہ بن سلام نے آنحضرت مہ کے جوابات سن کر ) کہا : میں گواہی كَانَ الشَّبَهُ لَهُ وَإِذَا سَبَقَ مَاؤُهَا كَانَ دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔پھر اس کے بعد الشَّبَهُ لَهَا قَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہود انتہا درجہ کے جھوٹے ثُمَّ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ فریبی لوگ ہیں۔اگر انہوں نے جان لیا کہ میں نے بُهْتُ إِنْ عَلِمُوْا بِإِسْلَامِي قَبْلَ أَنْ اسلام قبول کر لیا ہے پیشتر اس کے کہ آپ ان۔میرے متعلق پوچھیں تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے۔تَسْأَلَهُمْ بَهَتُونِي عِنْدَكَ فَجَاءَتِ اتنے میں یہودی آگئے اور حضرت عبداللہ بن سلام ) الْيَهُودُ وَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ الْبَيْتَ فَقَالَ کوٹھڑی میں چلے گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ پوچھا تم میں عبد اللہ بن سلام کیسے آدمی ہیں؟ کہنے لگے: