صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 549 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 549

صحيح البخاری جلده ۵۴۹ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة تشريح : إِثْمُ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ : باب کا عنوان ان الفاظ سے ہے اتُمُ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ اور اس باب کا عنوان ہے إِثْمُ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ ۔ پہلا عنوان عام ہے۔ اس میں معاہدہ کی خلاف ورزی مطلق حرام قرار دی گئی ہے اور یہ عنوان خاص ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ معاہدہ خواہ نیک انسان کی طرف سے کسی نیک انسان کے ساتھ ہو یا بدکار سے، یا بدکار کی طرف سے نیک کے ساتھ ہو یا بدکار سے، وہ بہر حال پورا کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والا گنہگار ہوگا۔ اس باب کے تحت چار حدیثیں ہیں ۔ پہلی دو حدیثوں کے الفاظ ہم معنی ہیں ۔ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت انس بن مالک سے مروی ہیں۔ دونوں کا مفہوم یہی ہے کہ غدار کی فضیحت نمایاں کی جائے گی۔ دنیا میں بھی وہ بدنام ہوتا ہے اور چاروں طرف سے انگشت نمائی ہوتی ہے کہ فلاں بد عہد ہے اور آخرت میں بھی اس کی رسوائی ۔ یہی مفہوم ہے غادر کے لئے علم نصب کئے جانے کا۔ تیسری روایت حضرت عبداللہ بن عمر کی لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُنصَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِغَدْرَتِهِ أَى بِقَدَرٍ غَدْرَتِهِ - یعنی غدار کی غداری کے مطابق کے مطابق علم بلند کیا جائے گا۔ عرب عربوں میں دستور تھا کہ وہ اپنے عہد کا سفید جھنڈا اور غداری کا سیاہ جھنڈا نص انصب کرتے تھے۔ ) ( فتح الباری جزء ۶ صفحه (۳۴) چونکہ آ ا چونکہ آخرت میں جزا سزا اعمال کے مماثل ہوگی ، اس لئے ہر غدار اور عہد شکن کے لئے اس کی غداری کے مطابق جھنڈا بلند ہوگا ۔ حدیث وہی ہے جس سے کتاب الجہاد کا پہلا باب شروع کیا گیا ہے۔ 0000000000