صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 549
صحيح البخاری جلده ۵۴۹ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة تشریح: إِثْمُ الْغَادِرِ لِلْبَرِ وَالْفَاجِرِ : باب ۱۷ کا عنوان ان الفاظ سے ہے إِثْمُ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ اور اس باب کا عنوان ہے إِثْمُ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِر - پہلا عنوان عام ہے۔اس میں معاہدہ کی خلاف ورزی مطلق حرام قرار دی گئی ہے اور یہ عنوان خاص ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ معاہدہ خواہ نیک انسان کی طرف سے کسی نیک انسان کے ساتھ ہو یا بد کار سے، یابد کار کی طرف سے نیک کے ساتھ ہو یا بد کار سے، وہ بہر حال پورا کیا جائے ساتھ یا بد کی ساتھ یابد کیا گا اور خلاف ورزی کرنے والا گنہ گار ہوگا۔اس باب کے تحت چار حدیثیں ہیں۔پہلی دو حدیثوں کے الفاظ ہم معنی ہیں۔یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت انس بن مالک سے مروی ہیں۔دونوں کا مفہوم یہی ہے کہ غدار کی فضیحت نمایاں کی جائے گی۔دنیا میں بھی وہ بدنام ہوتا ہے اور چاروں طرف سے انگشت نمائی ہوتی ہے کہ فلاں بد عہد ہے اور آخرت میں بھی اس کی رسوائی۔یہی مفہوم ہے غادر کے لئے علم نصب کئے جانے کا۔تیسری روایت حضرت عبداللہ بن عمر کی لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُنْصَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِغَدْرَتِهِ ای بِقَدَرٍ غَدْرَتِهِ - یعنی غدار کی غداری کے مطابق علم بلند کیا جائے گا۔عربوں میں دستور تھا کہ وہ اپنے عہد کا سفید جھنڈا اور غداری کا سیاہ جھنڈا نصب کرتے تھے۔(فتح الباری جزء۶ صفحہ ۳۴۱) چونکہ آخرت میں جزا سزا اعمال کے مماثل ہوگی، اس لئے ہر غدار اور عہد شکن کے لئے اس کی غداری کے مطابق جھنڈا بلند ہوگا۔حدیث وہی ہے جس سے کتاب الجہاد کا پہلا باب شروع کیا گیا ہے۔