صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 535 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 535

صحيح البخاری جلده ۵۳۵ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُوْنَ پھر ایک میعادی صلح جو تمہارے اور عیسائیوں کے فَيَأْتُوْنَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ درمیان ہوگی اور وہ دغا کریں گے اور وہ اُسی جھنڈوں كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا۔ کے نیچے تمہاری طرف آئیں گے۔ ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (فوج) ہوگی ۔ تشريح : مَا يُحْذَرُ مِنَ الْغَدْرِ : احتیاطی تدابرواسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الہی وعدہ حفاظت کے باوجود وسا و سائل حفاظت اختیار کئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الہی وعدہ کو پورا کرنے کے جس قدر وسائل میسر آسکیں ، ان کو استعمال کرنا چاہیے۔ یہ تو کل کے خلاف نہیں۔ معاشرہ دارالاسلام سے تعلق رکھنے والے افراد چار قسم میں منقسم ہو سکتے ہیں۔ (۱) مسلم جو شریعت اسلامیہ کو تہ کو تسلیم کرتا ہے۔ (۲) ذمی جوند با تو تسلیم کرتا ہے۔ ) مسلم کے عقائد سے اختلاف رکھتا ہے مگر اسلامی معاشرہ کا فرد ہے اور اسلامی حکومت کا تابع ۔ (۳) معاہد جو دارالاسلام سے باہر ہو لیکن بذریعہ معاہدات اسلامی معاشرہ سے وابستہ ہو۔ (۴) حربی یعنی وہ جو مسلمانوں سے جنگ کی حالت میں ہے۔ اسلامی شریعت نے ان میں سے ہر قسم کے لئے ضابطہ قواعد مقرر کیا ہے۔ جس کی رو سے ایک مسلم کی ہر فرد سے متعلق ذمہ داری متعین ہے۔ مسلم کے متعلق ذمہ داری کے لئے دیکھئے کتاب الصلاة، باب ۲۸، روایت نمبر ۳۹۲٬۳۹۱۔ ذمی کے لئے دیکھیں روایت نمبر ۳۱۵۶، ۳۱۵۷، ۳۱۵۸۔ معاہد کے متعلق دیکھئے روایت نمبر ۳۱۷۲۔ حربی کافر سے متعلق سلوک کرنے کے بارے میں دیکھئے روایات زیر باب ۱۳ تا ۱۶۔ اسلامی معاشرہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک دوسرے سے متعلق ذمہ داریاں کیا ہیں؟ یہاں چند ابواب میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ روایت نمبر ۳۱۷۶ کے بعض حصے قابل تشریح ہیں جو درج ذیل ہیں :- اعْدُدُ سِرًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ : اُعْدُدُ سِرًّا يَعْنِي سِنَّ عَلَامَاتٍ - چھ علامتیں گن لو۔ السَّاعَةُ سے آخری قیامت مراد نہیں بلکہ دنیا کی قیامت ہے جو قومی محاسبہ کا تلخ ترین وقت ہوتا ہے۔ جب کسی قوم سے خوف الہی اُٹھ جاتا ہے اور وہ برے بھلے کا امتیا پھلے کا امتیاز کھو بیٹھتی ہے اور حرص وطمع سے اندھی ہو کر خیانت، ظلم، جور یانت، هم جور اور معصیت پردبا پر دلیر ہو جاتی ہے تو الہی مؤاخذہ کے نیچے آتی اور تباہ ہو جاتی ہے۔ اس تعلق میں کتاب الإيمان باب ۳۷، روایت نمبر ۵۰ کی تشریح بھی دیکھئے۔ پس اُعْدُدُ سِئًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں پر تنزل کی گھڑی آنے سے پہلے چھ امور کا ظہور پذیر ہونا لازمی ہے۔ پہلی علامت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے۔ آپ کی وفات پر فتنہ ارتداد ہوا۔ اگر چہ حضرت ابو بکر اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس فتنہ پر قابو پالیا تھا مگر وہ فتنہ ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے قصر اسلامی کے ارکان ہلا دیئے تھے۔ دوسری علامت فتح بیت المقدس بیان ہوئی ہے جو حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہوئی اور اس فتح کے بعد عیسائی اقوام سے جو تمدنی رابطہ قائم ہوا، اس سے بھی اسلامی اخلاق متاثر ہوئے۔