صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 534
صحيح البخاری جلده وَلَمْ يَصْنَعْهُ۔۵۳۴ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة کام کیا ہے۔مگر آپ نے نہ کیا ہوتا۔اطرافه: ٣٢٦٨ ٥٧٦٣، ٥٧٦٥، ٥٧٦٦، ٦٠٦٣، ٦٣٩١۔تشريح : هَلْ يُعْفَى عَنِ الذِمّي إِذَا سَحَرَ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کئے جانے کے متعلق بحث کتاب الطب، باب السحر میں کی جائے گی۔انشاء اللہ تعالی۔بَابِ ١٥ : مَا يُحْذَرُ مِنَ الْغَدْرِ دغا بازی سے جو بیچا جائے وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى : وَاِنْ تُرِيدُوا ان اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اگر وہ تجھے دھوکا دینے کا ارادہ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللهُ الْآيَة کریں تو اللہ تجھے کافی ہے۔(الأنفال : ٦٣) ٣١٧٦: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۳۱۶ حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن علاء بن زبر نے ہم سے الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے بسر بن عبید اللہ سے عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيْسَ قَالَ سنا کہ انہوں نے ابوادر میں سے سنا۔انہوں نے کہا: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ میں نے حضرت عوف بن مالک سے سنا۔انہوں نے کہا: میں غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمِ فَقَالَ اعْدُدْ گیا۔آپ ایک چڑے کے بڑے خیمہ میں تھے۔آپ نے فرمایا: موعودہ گھڑی سے پہلے چھ علامتوں کو سِرًّا بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مَوْتِي ثُمَّ فَتْحُ مَن رکھو۔میری وفات ، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر گن ، بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مُوْتَانٌ يَأْخُذُ فِيْكُمْ مری جو تم میں پڑے گی جیسے بکریوں میں مری پڑتی كَقُعَاصِ الْغَنَمِ ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ ہے۔پھر مال کا اس کثرت سے آنا کہ ایک ایک آدمی کو حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظُلُّ سوسو دینار دیے جائیں گے اور وہ ابھی نا خوش ہوگا۔سَاخِطًا ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ پھر اس کے بعد ایک فتنہ ایسا اُٹھے گا کہ عربوں کا کوئی الْعَرَب إِلَّا دَخَلَتْهُ ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ گھر بھی باقی نہیں رہے گا جس میں وہ داخل نہ ہو۔