صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 495 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 495

صحيح البخاری جلده ۴۹۵ ۵۷ - کتاب فرض الخمس يَا رَسُوْلَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ میں نے (یہ سن کر ) کہا: یا رسول اللہ ! اسی ذات کی قسم لَا أَرْزَأَ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے۔اس وقت الدُّنْيَا فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُو حَكِيْمًا تک کہ میں دنیا سے جدا ہو جاؤں۔میں آپ کے بعد لِيُعْطِيَهُ الْعَطَاءَ فَيَأْبَى أَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ اور کسی سے بھی کچھ نہ لوں گا۔چنانچہ حضرت ابوبکر شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَى أَنْ حضرت حکیم کو بلاتے کہ انہیں بھی وظیفہ دیں تو وہ انکار کرتے کہ ان سے کچھ لیں۔پھر حضرت عمرؓ نے بھی انہیں بلایا کہ ان کو وظیفہ دیں۔مگر انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔اس پر حضرت عمر نے کہا: لَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ مسلمانو! میں ان کے سامنے ان کا وہ حق جو اللہ نے فَلَمْ يَرْزَأَ حَكِيْمٌ أَحَدًا مِّنَ النَّاسِ اس کے سے مقرر کیا ہے، پیش کرتا ہوں تو یہ لینے سے شَيْئًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انکار کرتے ہیں۔غرض حضرت حکیم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنی موت تک لوگوں میں سے کسی سے بھی کچھ نہ لیا۔يُقْبَلَ مِنْهُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ إِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَ اللَّهُ حَتَّى تُوُقِيَ۔اطرافه ١٤٧٢، ٢٧٥٠، ٦٤٤١۔٣١٤٤: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۳۱۴۴ : ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، ایوب نے أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نافع سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَيَّ نے کہا: یا رسول اللہ ! زمانہ جاہلیت میں میرے ذمہ یہ اعْتِكَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَمَرَهُ أَنْ نذر تھی کہ ایک دن اعتکاف بیٹھوں گا۔آپ نے ان سے فرمایا کہ اسے پورا کریں۔نافع کہتے تھے: اور يَفِيَ بِهِ قَالَ وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ حضرت عمر نے حسین کے قیدیوں میں سے دولڑکیاں مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ حصے میں پائی تھیں۔انہوں نے ان دونوں کو مکہ کے مَكَّةَ قَالَ فَمَنَّ رَسُوْلُ اللهِ کسی گھر میں رکھا۔نافع کہتے تھے: پھر رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَبي ﷺ نے حسین کے قیدیوں پر احسان کیا تو وہ چھوٹ بيوت