صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 449 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 449

صحيح البخارى جلده ۵۷ - کتاب فرض الخمس شَطْرُ شَعِيْرٍ فِي رَفَ لِي فَأَكَلْتُ مِنْهُ کہ میرے گھر میں کچھ نہ تھا جوجگر والا جاندار ) کھاتا، حَتَّى طَالَ عَلَيَّ فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ۔سوائے آدھے وسق جو کے جو پر چھتی پر تھے تو میں اسی سے کھاتی رہی یہاں تک کہ ایک مدت گزرگئی تو طرفه: ٦٤٥١۔میں نے اسے ماپا اور وہ ختم ہو گئے۔۳۰۹۸: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۳۰۹۸: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی ( قطان ) عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ نے ہمیں بتایا کہ سفیان (نوری) سے مروی ہے۔قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ قَالَ انہوں نے کہا: ابو اسحق نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: میں نے حضرت عمرو بن حارث سے سنا کہ انہوں إِلَّا سِلَاحَهُ وَبَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَأَرْضًا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (وفات کے وقت ) تَرَكَهَا صَدَقَةً۔کچھ جائیداد نہیں چھوڑ کی سوا اپنے ہتھیار اور سفید فیچر تشریح: اور کچھ زمین کے۔ان سب چیزوں کو آپ نے بطور صدقہ چھوڑا تھا۔اطرافه: ۲۷۳۹، ٢٨۷۳، ٢٩١٢، ٤٤٦١۔نَفَقَةُ نِسَاءِ النَّبِي عله بَعْدَ وَفَاتِهِ : آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد خلیفہ وقت جسے جائیداد کا منتظم مقرر کرتے وہ عامل کہلاتا تھا۔آنحضرت ﷺ کی وصیت مذکورہ بالا سے ظاہر ہے کہ آپ کا ترکہ وراثت کا ترکہ نہ تھا کہ آپ کے اہل بیت یا اولاد میں تقسیم ہوتا۔البتہ بیت المال ان کے اخراجات کا ذمہ دار تھا۔اس بارہ میں اہل بیت کی شہادت سے بڑھ کر اور کس کی شہادت قابل وثوق ہو سکتی ہے۔تینوں روایتیں اس بارے میں متفق ہیں۔بَاب ٤ : مَا جَاءَ فِي بُيُؤْتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ جو ذکر نبی ﷺ کی ازواج کے گھروں کے بارے میں آیا ہے اس کا بیان نیز گھروں کا ان کی طرف نسبت دینا وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَقَرْنَ فِي اور اللہ عزوجل کے اس ارشاد کا ذکر : اے نبی کی بیویو! بُيُوتِكُنَّ (الأحزاب: (٣٤) وَلَا تَدْخُلُوا تم اپنے گھروں میں وقار سے رہو۔اوراے مسلمانو!