صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 446
صحيح البخاری جلده ۵۷- كتاب فرض الخمس وہی طریقہ تقسیم اختیار کیا جس کی تصریح سورۃ انفال میں ہے۔اس لئے ان دونوں آئینوں میں کوئی تعارض نہیں اور نہ وہ ایک دوسری کی ناسخ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کتاب فرض الخمس کے عنوان سے دونوں قسم کے اموال کا ذکر اکٹھا کیا گیا ہے اور واقعہ نخلہ میں جو جھڑپ ہوئی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت وعلم کے بغیر ہوئی تھی اور عبداللہ بن جحش نے اموال غنیمت کی تقسیم بھی خود ہی کی تھی۔کیونکہ اس وقت تک کوئی حکم اس بارے میں نازل نہیں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ کو پانچواں حصہ پیش کیا گیا۔اس میں سے حضرت علی کو بھی ایک اونٹ ملا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ اور حضرت علی نے مدینہ کی جائیداد اور خیبر کے اموال میں حصہ نبوی سمجھ کر مطالبہ کیا تھا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حاصلات سے اہل بیت اور عزیز واقرباء کے لئے خرچ کیا کرتے تھے۔گویا وہ تر کہ نبو یہ ہیں جو ورثاء میں تقسیم ہونا چاہیے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے ان کی یہ غلط نہی واضح اور صریح فیصلہ سے دور کر دی۔اس تعلق میں کتاب الوصایا باب ۳۲ بھی دیکھئے۔نیز الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر صدقات رسول اللہ یہ بھی دیکھئے۔لفظ غنیمت ان اموال منقولہ پر اطلاق پاتا ہے جو میدانِ جنگ میں مفتوحین سے فاتحین کے قبضہ میں آئیں اور لفظ کے اموال غیر منقولہ پر جو بغیر جنگ کے ملیں۔مثل اراضی مفتوحہ یا اس کے حاصلات یعنی خراج۔اموال عنیمت اور اموال کے کا 4/0 حصہ فوج کا اور 1/5 حصہ بیت المال کا جوشس کہلاتا ہے۔یعنی پانچواں حصہ جو تین مساوی حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ایک تہائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص ہے۔اس کا مصرف آپ کے اہل بیت اور اقرباء کے لئے تھا اور باقی ۲/۳ آنحضرت ﷺ یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں اور فی سبیل اللہ یعنی رفاہ عامہ کے کاموں کے لئے خرچ کرتے۔خلفائے راشدین نے بھی اسی کی پیروی کی تھی۔جنگ بدر کے موقع پر مال غنیمت سابقہ دستور کے مطابق بحصہ مساوی تقسیم ہوا تھا اور سورۃ الانفال اور سورۃ الحشر کے نزول پر مذکورہ بالا حصص کا تعین ہوا۔(السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بدر، ذكر الفيء ببدر والأسارى) اگر اصولی طور پر مذکورہ بالا تقسیم قائم رہی اور حالات کے تقاضا سے حضرت عمر نے آیت وَالَّذِيْنَ جَاءُ وُا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلُ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوْا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (الحشر: 1) سے استدلال کرتے ہوئے عراق عرب کی اراضی مفتوحہ بجائے تقسیم کرنے کے محفوظ کرلیں اور ان کا خرچ بیت المال کا حصہ قرار دیا گیا۔جس سے ملکی اور ملی ضروریات حسب حالات پوری کی جاتی تھیں۔باغ فدک سے متعلق نزاع کی صورت ایک وقتی اور عارضی سوال تھا جو قطعی فیصلہ سے حل کیا گیا۔اس ضمن میں کتاب الفرائض ، باب ۳ قول النبي علة لا نورث ما تركنا صدقہ بھی دیکھئے۔صلى الله