صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 435
صحيح البخاری جلده ۴۳۵ بلد الحالي ۵۷- کتاب فرض الخمس ٥٧ - كِتَابُ فَرُضِ الْخُمُسِ بَاب ۱ : فَرْضُ الْخُمُسِ خمس کے فرض ہونے کا بیان ۳٠٩١: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ :۳۰۹۱ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ ( بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔یونس نے ہمیں بتایا أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ أَنَّ حُسَيْنَ کہ زہری سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: علی بن بْنَ عَلِي عَلَيْهِمَا السَّلَامُ أَخْبَرَهُ أَنَّ حسین امام زین العابدین) نے مجھے بتایا کہ حسین عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ بن على عليهما السلام نے انہیں خبر دی کہ حضرت علی نے نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَكَانَ کہا کہ غزوہ بدر کی غنیمت میں سے ایک جوان اونٹنی مجھے حصے میں ملی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جوان اونٹنی مجھے مال خمس میں سے دی۔جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ کو بوقت رخصتانہ ) گھر میں لانا چاہا تو بنو قینقاع قبیلہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا کے ایک سنار کو تیار کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے تا کہ ہم صَوَّاعًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يُرْتَحِلَ دونوں اذخر گھاس لائیں۔میرا ارادہ تھا کہ اسے مَعِيَ فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيْعَهُ سناروں کے پاس فروخت کروں گا اور اس کی آمد کے الصَّوَّاغِيْنَ وَأَسْتَعِيْنَ بِهِ فِي وَلِيْمَةِ ذریعہ سے اپنی شادی کے ولیمہ میں مدد لوں گا۔اسی عُرْسِي فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ اثناء میں کہ میں اپنے دونوں اونٹوں کا سامان پالان مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ اور تھیلے اور رسیاں اکٹھی کر رہا تھا اور میری دونوں النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللَّهِ