صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page iv of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page iv

صحيح البخاری جلده فهرس بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَ الرَّحِيمِ فهرست ٥٣- كِتَابُ الصلح باب ا : مَا جَاءَ فِي الْإِصْلَاح بَيْنَ النَّاسِ۔لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے بارے میں 1 باب ۲ : لَيْسَ الْكَاذِبُ الَّذِى يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاس۔۔وہ جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے۔۔۔بَاب : قَوْلُ الْإِمَامِ لِأَصْحَابِهِ اِذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ۔۔۔امام کا اپنے ساتھیوں سے کہنا ہمیں لے چلو ہم صلح کرائیں گے باب :٤: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا اللہ تعالٰی کا یہ فرمانا: اگر میاں بیوی دونوں کسی طرح صلحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ صلح کرلیں ، اور مسلح کرنا ہی سب سے اچھی بات ہے۔۔۔بَاب : إِذَا اصْطَلَحُوْا عَلَى صُلح جَوْرٍ فَالصُّلْحُ اگر لوگ ظالمانہ فعل پر آپس میں صلح کر لیں تو یہ مسلح رو کی جائے گی مَرْدُود بَاب : كَيْفَ يُكْتَبُ هَذَا مَا صَالَحَ فَلَانُ بْنُ فُلَانٍ ( صلح نامہ) کیسے لکھا جائے؟ یہ وہ ( صلح نامہ ) ہے جس پر فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں نے صلح کی ہے وَفُلَانُ بْنُ فَلَانٍ بَاب : الصُّلْحُ مَعَ الْمُشْرِكِيْنَ بَاب : الصُّلُحُ فِي الدِّيَةِ صلى الله مشرکوں کے ساتھ صلح کرنا دیت پر صلح کرنا۔بَاب ٩ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيّ رَضِيَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما اللهُ عَنْهُمَا ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ۔باب ١٠: هَلْ يُشِيرُ الْإِمَامُ بِالصُّلْحِ سے کہنا میرا یہ بیٹا سردار ہے کیا امام مسلح کرنے کے لیے اشارہ کرے۔۔۔A ا۔۱۳ 14 IA ۲۲ بَاب اا: فَضْلُ الْإِصْلَاح بَيْنَ النَّاسِ وَالْعَدْلِ بَيْنَهُمُ۔۔۔لوگوں کے درمیان صلح کرانے اور انصاف کرنے کی فضیلت ۲۴ بَاب ١٢ : إِذَا أَشَارَ الْإِمَامُ بِالصُّلْحِ فَأَبَى حَكَمَ عَلَيْهِ امام اگر صلح کرنے کے لئے اشارہ کرے اور کوئی فریق نہ مانے تو اس کے لئے وہ فیصلہ کرے جو نہایت واضح ہو۔۔۔۲۵ بالحكم الْبَيِّنِ بَاب ١٣: الصُّلْحُ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ وَأَصْحَابِ الْمِيْرَاتِ قرض خواہوں اور وارثوں کے درمیان صلح کرانا وَالْمُجَازَفَةُ فِي ذَلِكَ باب ۱۴ : اَلصُّلْحُ بِالدَّيْنِ وَالْعَيْنِ اور قرضہ کی ادائیگی کے متعلق اندازہ کرنا ۲۶۔۔۔۔۔۔۔(قرض) کچھ بذریعہ قرض اور کچھ نقد ادا کر کے صلح کرانا ۲۹