صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 170 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 170

صحیح البخاری- جلده ۱۷۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير باب ۱۳ : عَمَلٌ صَالِحٌ قَبْلَ الْقِتَالِ لڑائی سے پہلے نیک کام کرنا وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِنَّمَا تُقَاتِلُوْنَ حضرت ابو در داھ نے کہا: تم اپنے نیک کاموں کی وجہ بِأَعْمَالِكُمْ وَقَوْلُهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ سے ہی لڑ رہے ہوا اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اے وہ لوگو جو امَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ) ایمان لائے ہو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أَنْ تَقُولُوا نہیں ۔ اللہ کو یہ بات بہت ناپسند ہے کہ تم ایسی بات مَا لَا تَفْعَلُونَ ) إِنَّ اللهَ يُحِبُّ کہو جسے کرتے نہیں۔ اللہ تو ان لوگوں کو ہی پسند کرتا الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيْلِهِ صَفًّا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھے جم کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ ایک نہایت مضبوط سیسہ پلائی كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوصُ ) (الصف: ٣-٥) دیوار ہیں۔ ۲۸۰۸: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ۲۸۰۸ محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ شبابه بن سوار فزاری نے ہمیں بتایا کہ اسرائیل نے سَوَّارِ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابوالحق سے روایت کی کہ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت براء بن عازب ) نهُ يَقُولُ أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صل اللہ علیہ و صلی وسلم کے پاس ایک شخص آیا جو خود سے منہ چھپائے ہوئے الله رضى مُقَنَّعٌ بِالْحَدِيدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تھا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا میں پہلے لڑوں یا قَاتِلُ أَوْ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلِمْ ثُمَّ قَائِل اسلام قبول کروں ؟ آپ نے فرمایا: پہلے اسلام قبول کرو فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ پھر لڑو۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا پھر وہ لڑا اور مارا گیا۔ عَمِلَ قَلِيْلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کام تو تھوڑا کیا مگر ثواب بہت لے لیا۔ تشريح : عَمَلَ صَالِحٌ قَبْلَ الْقِتَالِ : عنان باب میں حضرت ابودردا کے مندرجہ دو سے مرادیہ ہے کہ قول ایک عمل صالح کی برکت سے دوسرے عمل صالح کی ن ت سے دوسرے عمل صالح کی توفیق ملتی ہے۔ شارحین نے اس حوالے سے متعلق یہ