صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page xviii
صحيح البخاری جلده باب ۹: الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ XV فهرس غنیمت اس کے لئے ہے جو جنگ میں شریک ہو۔۔۔۔۴۷۱ بَاب ١٠: مَنْ قَاتَلَ لِلْمَغْنَمِ هَلْ يَنقُصُ مِنْ أَجْرِه۔جو غنیمت کی خاطر لڑا، کیا اس کے اجر میں سے کچھ کم ہو جائے گا ؟ امام کے پاس جو ( تحفہ) آئے اس کا اسے بانٹ دینا۔۔۔۔۴۷۲ باب : قِسْمَةُ الْإِمَامِ مَا يَقْدَمُ عَلَيْهِ بَاب ١٢: كَيْفَ قَسَمَ النَّبِيُّ الله قُرَيْظَةَ وَالنَّضِير نبی ﷺ نے قرینہ اور تفسیر کے اموال کس طرح تقسیم کئے ۴۷۴ بَابِ ١٣: بَرَكَةُ الْغَازِيُّ فِي مَالِهِ حَيًّا وَمَا مَعَ النَّبِيِّ نبی ﷺ اور آپ کے خلفاء کی معیت میں غازی کے الله وولاة الأمر مال کو جو برکت دی گئی اس وقت بھی جبکہ وہ زندہ تھا اور اس وقت بھی جبکہ وہ فوت ہوا بَاب ١٤: إِذَا بَعَثَ الْإِمَامُ رَسُولًا فِي حَاجَةٍ أَوْ أَمَرَهُ اگر امام کسی غرض کیلئے کسی کو اچھی بنا کر بھیجے یا اسے شہر نے کا حکم دے تو کیا اس کا حصہ ( مال غنیمت میں ) نکالا جائے؟ ۴۷۹ بِالْمُقَامِ هَلْ يُسْهَمُ لَهُ بَاب ۱۵: وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ اس بات پر دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی غیر معمولی ضرورتوں کے لئے تھا الْمُسْلِمِينَ بَاب : مَا مَنَّ النَّبِيُّ الله عَلَى الْأَسَارَى مِنْ غَيْرِ في صلى اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں پر جو احسان کیا بغیر اس ١٦: کے کہ آپ پانچواں حصہ نکالتے أَنْ يُخَمِّسَ بَاب : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِلإِمَامِ اور اس بات پر دلیل کے غنیمت کا پانچواں حصہ امام کیلئے ہے باب ۱۸: مَنْ لَّمْ يُخَمِسِ الْأَسْلَاب کی الله جو سامان سے پانچواں حصہ نہ نکالے باب ١٩: مَا كَانَ النَّبِيُّ لَا يُعْطِي الْمُؤلَّفَةَ قُلُوبُهُمُ ان لوگوں کو جن کی تالیف قلب مقصود ہوتی اور ان کے سوا دوسروں کو بھی غنیمت کے پانچویں حصے یا اسی قسم کے وَغَيْرَهُمُ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحُوم اموال میں سے جو کچھ نبی صلہ عطا فرماتے MAZ ۴۹۴ باب ٢٠: مَا يُصِيبُ مِنَ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ۔۔۔۔لڑنے والا غازی کھانے کی جو چیزیں ملک میں پائے ۵۰۴۰ ٥٨- كتاب الجزيَةِ وَالْمُوَادَعَةِ بَاب : الجِزْيَةُ وَالْمُوَادَعَةُ مَعَ أَهْلِ الدِّمة جز یہ وصول کرنا نیز ذمیوں اور لڑنے والوں کے ساتھ ایک مدت تک لڑائی نہ کرنے کا بیان وَالْحَرْبِ بَاب ٣ : إِذَا وَادَعَ الْإِمَامُ مَلِكَ الْقَرْيَةِ هَلْ يَكُونُ اگر امام بستی کے حاکم سے صلح کرلے تو کیا یہ صلح بہتی ذَلِكَ لِبَقِيَّتهم والوں سے بھی ہوگی بَاب : الْوَصَاةُ بِأَهْلِ ذِمَّةِ رَسُولِ اللهِ الله جو باشندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امان میں ہوں ان کی نسبت تاکیدی حکم ۵۰۶ ۵۱۴ ۵۱۵