صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 44 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 44

صحيح البخاری جلد ۴ م بم بَابِ ۲۳ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ ۳۴- كتاب البيوع يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرّبوا أَضْعَافًا مُضْعَفَةً { وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ *} (آل عمران: ۱۳۱) اللہ عز وجل کا فرمانا : اے وہ جو ایمان لائے ہو! سود نہ کھاؤ کہ تمہارا مال بے انتہاء بڑھتا چلا جائے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچو کہ تم کامیاب ہو جاؤ ہم ۲۰۸۳ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ۲۰۸۳: آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا، ذِنْبِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي کہا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا کہ سعید مقبری نے هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے، قَالَ: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ أَمِنَ الْحَلَالِ کی۔آپ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ آدمی مال لینے میں اس کی پرواہ نہیں کرے أَمْ مِنْ حَرَامٍ طرفه: ٢٠٥٩۔گا کہ آیا حلال سے ہے، یا حرام سے۔تشریح : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الربا: سلبی بہت سے سود کی حرمت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ کا حوالہ دیا گیا ہے۔پوری آیت یہ ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرَبُوا أَضْعَافًا مُضْعَفَةٌ ، وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَO وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ (آل عمران:۱۳۲۱۳۱) اے ایماندار و ! تم اپنے مال پر سو دمت کھاؤ کہ اس سے تمہارے مال بے انتہا بڑھتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ ( کی ناراضگی ) سے بچو تا کامیاب ہو اور اُس آگ سے ڈرو جو منکروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔اس تعلق میں باب نمبر ا مع تشریح بھی دیکھئے۔عربوں میں سود کا جو دستور رائج تھا، اس کی بالعموم صورت یہ تھی کہ ایک شخص قرضہ بصورت نقد یا جنس کی قیمت ٹھہرا کر مع نفع لین دین کا فیصلہ کر لیتا اور ادائیگی کا وقت بھی مقرر ہو جاتا۔اگر قرضہ لینے والا وقت مقررہ پر ادا نہ کر سکتا تو میعاد بڑھائی جاتی اور اُس میعاد کا نفع اصل زر میں شامل کر کے پھر نیا معاملہ لین دین کا شروع کر دیا جاتا۔وعلی ھذا القیاس ہر میعاد ختم ہونے پر نئے سرے سے میعاد قرار پاتی۔اس طرح عدم ادائیگی کی صورت میں اصل زرع نفع در نفع بڑھتا چلا جاتا۔آیت کے یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق متن میں شامل ہیں۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۹۹)