صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 637 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 637

صحيح البخاری جلدم ۶۳۷ ۱ ۵ - كتاب الهبة ابراہیم نخعی رجوع کے خلاف ہیں۔ابراہیم مخفی اور عمر بن عبد اللہ کے فتویٰ کا حوالہ مسند عبد الرزاق میں موصولاً مروی ہے۔دونوں کے نزدیک ہبہ سے رجوع نہیں ہو سکتا۔امام ابن شہاب زہری کا فتویٰ ابن وہب نے بسند یونس بن یزید نقل کیا ہے اور مسند عبدالرزاق میں بھی اُن کا یہ فتویٰ مروی ہے کہ قاضی عورت کو تو رجوع کی اجازت دیتے ہیں مگر مرد کو نہیں ہو امام مالک کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ اگر شہادت سے ثابت ہو کہ حق مہر وغیرہ معاف کرنے کرانے میں دھوکہ کی صورت ہے تو عورت کو رجوع کا حق ہے۔قاضی شریح رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک مقدمہ میں خاوند سے شہادت طلب کی کہ اس کی بیوی نے بلا جبر و اکراہ اپنا حق مہر بخش دیا تھا۔بصورت عدم شہادت بیوی کی قسم کے مطابق فیصلہ ہوگا۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تیمارداری کا واقعہ بھی اسی قسم کے ہبہ میں شمار کر کے ضمنا اس کا حوالہ دیا ہے۔علاوہ ازیں عنوان باب ہی میں تھے چاٹنے سے متعلق بھی حدیث نبوی کا حوالہ دیا گیا ہے۔یہ دونوں حوالے اسی باب کی دونوں روایتوں میں مفصل درج ہیں۔جس سے ظاہر ہے کہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ رجوع کے حق میں نہیں۔چنانچہ اسی بارہ میں قرآن مجید کی آیت فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ۔(النساء:۵) نص صریح ہے کہ اگر عورتیں اپنے دل کی خوشی سے اپنا حق مہر خاوند کو معاف کر دیں تو ایسی حالت میں وہ ہبہ خوشگوار خوش انجام ہوگا۔اگر اکراہ کی صورت ہو تو جائز نہیں۔علامہ ابن حجر نے حضرت عمر کا ایک قول بھی بحوالہ عبدالرزاق نقل کیا ہے جس کے یہ الفاظ ہیں: أَنَّ النِّسَاءَ يُعْطِينَ رَغْبَةً وَّ رَهْبَةً فَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْطَتْ زَوْجَهَا فَشَاءَتْ أَنْ تَرْجِعَ رَجَعَتْ * یعنی عورتیں برضاور غبت یا خوف سے دیتی ہیں ، جو عورت خاوند کو حق مہر دے کر اس سے پھر نا چاہے تو پھر سکتی ہے۔امام شافعی کے نزدیک خلع کی صورت میں رجوع نہیں کر سکتی۔ان کے فتویٰ کی بنیاد قرآن مجید کی آیت فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهِ (البقرة:۲۳۰) پر ہے۔کتے کی مثال سے واضح ہے کہ ہبہ سے رجوع نہایت مکروہ ہے۔جہاں تک فتویٰ کا تعلق ہے وہ مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ دھوکہ فریب کی صورت میں ہبہ سے بذریعہ دار القضاء رجوع کیا جاسکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۶۶ ۲۶۷) بَاب ١٥ : هِبَةُ الْمَرْأَةِ لِغَيْرِ زَوْجِهَا وَعِتْقُهَا إِذَا كَانَ لَهَا زَوْجٌ فَهُوَ جَائِزٌ إِذَا لَمْ تَكُنْ سَفِيْهَةً فَإِذَا كَانَتْ سَفِيْهَةً لَمْ يَجُزْ عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی کو ہبہ کرنا اور اس کا لونڈی غلام کو آزاد کرنا جب اس کا خاوند موجود ہو تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ کم عقل نہ ہو، اگر کم عقل ہو تو جائز نہیں قَالَ اللهُ تَعَالَى: وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: نادانوں کو مال نہ دو۔اَمْوَالَكُمْ (النساء: ٦ ) (مصنف عبد الرزاق كتاب المواهب، باب هبة المرأة لزوجها، جزء ۹ صفحه ۱۱۴ تا ۱۱۶)