صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 617
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۱۷ ۱ ۵ - كتاب الهبة السَّلَمِي عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہے، انہوں نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت قَالَ : كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِّنْ کی۔ وہ کہتے تھے: ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے چند صحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ پر ایک پڑاؤ میں فِي مَنْزِلِ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُول یا ہواتھا اور سو اللہصلی الہ علیہ سلم نے ہمارے آگے ڈیرا لگایا ہوا تھا اور لوگ احرام باندھے ہوئے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِل تھے اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ لوگوں نے أَمَامَنَا - وَالْقَوْمُ مُحْرِمُوْنَ وَأَنَا غَيْرُ ایک گور خر دیکھا اور میں مشغول تھا اور اپنی جوتی گانٹھ مُحْرِمٍ فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا - وَأَنَا رہا تھا۔ انہوں نے مجھے اس کی خبر نہ دی، مگر وہ دل سے مَشْعُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي چاہتے تھے کہ کاش میں اسے دیکھ لوں۔ میں جو مڑا تو بِهِ وَأَحَبُّوْا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ فَالْتَفَتُ میں نے اس کو دیکھ لیا۔ میں گھوڑے کی طرف اُٹھ کر فَأَبْصَرْتُهُ فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ فَأَسْرَجْتُهُ گیا اور اس پر زین لگائی اور سوار ہوگیا اور کوڑا اور برچھا لینا بھول گیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: مجھے ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيْتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ کوڑا اور پر چھا پڑاؤ، تو کہنے لگے۔ لگے نہیں۔ بخدا! ہم تو فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ تمہیں اس پر حملہ کرنے کے لئے کسی چیز سے مدد نہیں فَقَالُوا : لَا وَاللَّهِ لَا نُعِيْنُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ دیں گے۔ مجھے غصہ آیا اور میں نے خود اُتر کر وہ دونوں فَغَضِبْتُ فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا ثُمَّ رَكِبْتُ چیزیں لے لیں اور پھر سوار ہو گیا اور اس گورخر پر زور فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ ثُمَّ سے حملہ کیا اور اسے زخمی کر دیا اور اسے لے آیا اور وہ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ مر چکا تھا ۔ پھر میرے ساتھی اس ب اتھا۔ پھر میرے ساتھی اس پر آپڑے، لگے اس ثُمَّ احرام کی حالت میں - يَأْكُلُونَهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ کو پکا کر کھانے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے میں اس کے کھانے کے بارے میں وَهُمْ حُرُمٌ فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي شک کیا۔ ہم وہاں سے چل پڑے اور میں نے اپنے * فَأَدْرَكْنَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ساتھ اگلی ران چھپا رکھی اور ہم رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : مَعَكُمْ سے جاملے اور آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ مِنْهُ شَيْءٌ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے؟