صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 503
صحيح البخاری جلدم ٥٠٣ ٤٦ - كتاب المظالم کیونکہ جن حالات میں ساز طرب و سماع توڑنے پر تاوان نہ دلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا وہ معلوم نہیں ہیں۔ہوسکتا ہے کہ طنبور والا ہی اس میں قصور وار ہو کہ وہ ایسے وقت میں اور ایسی جگہ اپنے ساز کو بجا رہا ہو جہاں اس کا بجانا خل آرام ہو۔مشار الیہ قضیہ ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے۔باب کی پہلی روایت کے آخر میں اسماعیل ( بن ابی اویس ) کے حوالے سے جو امام بخاری کے شیخ ہیں، تلفظ کی اصلاح کی گئی ہے۔بعض سندوں میں انسيَّة کا لفظ ہے یعنی وہ گدھے پالتو تھے۔یہ لفظ انس سے مشتق ہے۔جس کے معنے مانوس کے ہیں۔بعض فقہاء نے سوال اُٹھایا ہے کہ گدھے کا گوشت کیوں حرام کیا گیا ہے؟ اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔بعض کی رائے ہے کہ ضروریات بار برداری کی وجہ سے گدھے ذبح کرنے سے منع کیا گیا تھا ورنہ اس کا گوشت ایسا ہی حلال ہے جیسے گھوڑے وغیرہ کا۔بعض نے کہا ہے : چونکہ شارع اسلام نے منع کیا ہے اس لئے یہی اس کی علت حرمت ہے۔لیکن یہ بحث یہاں غیر متعلق ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے: عمدۃ القاری جز ء۱۳ صفحہ ۳۱،۳۰۔خلاصہ یہ کہ شراب وغیرہ کی حرمت کے سبب سے برتن یا صلیب یا بت توڑنا جائز نہیں جبکہ وہ دوسروں کے مملوکہ ہوں۔سورہ حج جس میں مظلوموں کو تلوار اُٹھانے کی اجازت دی گئی ہے۔وہیں اس امر کی بھی تصریح ہے کہ گرجوں، معبدوں اور و سرو کنیسہ کی حفاظت کیا جانا ضروری ہے کہ اُن میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ ولولا دَفَعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَ مَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَّنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِیز ) (الحج: ۴۱) اور اگر اللہ ان ( یعنی کفار ) میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے (شرارت سے باز نہ رکھتا تو گرجے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے برباد کر دیئے جاتے اور اللہ یقیناً اس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا۔اللہ یقیناً بہت طاقتور ( اور ) غالب ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی سے بھی جواز کا استدلال نہیں ہو سکتا کہ وہ بت خانہ بھی آپ کے خاندان کی ملکیت تھا۔اُس کی تفصیل موقع پر آئے گی۔ساز طرب و سرور توڑنا بھی جائز نہیں۔اگر توڑے جائیں تو توڑنے والے کا فعل مظالم میں شمار ہوگا اور اُس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔مَظلَمَةٌ کے معنے ہی ظلم کی شکایت کے ہیں اور قاضی حالات کے مطابق فیصلہ کرے گا۔امام بخاری کو قاضی شریح کا فیصلہ معلوم تھا؛ مگر اس کے باوجود انہوں نے مشار الیہ فقہاء کے فتوے کے ساتھ اتفاق نہیں کیا کہ اسلام کی اصولی تعلیم اُن کے مد نظر تھی۔ایسے فتوے فتنہ وفساد کا موجب ہیں اور بعض نادان ان فتووں سے متعلقہ حالات نظر انداز کر کے کافر کا مال حلال اور بتوں کا توڑنا پھوڑنا جائز سمجھتے ہیں۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دفاعی جنگوں کا اصل منشاء یہی تھا کہ مذہبی اور شخصی آزادی قائم ہو اور امن عامہ بحال ہو اور ہر شخص اپنے مدنی حقوق سے بہرہ ور ہو۔مصنف ابن ابي شيبة كتاب البيوع، باب فى الرجل يكسر الطنبور، جزء ۵ صفحه ۱۰)