صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 502 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 502

صحيح البخاري - جلدم ۵۰۲ ٤٦ - كتاب المظالم فَهَتَكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پھاڑ ڈالا۔پھر فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ فَكَانَتَا فِي حضرت عائشہ نے اُس سے دو گڑے بنائے اور وہ گھر الْبَيْتِ يَجْلِسُ عَلَيْهِمَا۔اطرافه ۱٩٥٤ ۵۹۰۰، ۶۱۰۹ تشریح: میں رہے۔آپ ان پر بیٹھا کرتے تھے۔هَلْ تُكْسَرُ الدِنَانُ الَّتِي فِيهَا خَمْرٌ اَوْ تُخَرَّقُ الرِّقَاقُ : عنوان باب استفتاء کی صورت میں ہے اور اس میں قاضی شریح کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے۔جس سے بظاہر پایا جاتا ہے کہ شراب کا برتن تو ڑنا جائز ہے کیونکہ شراب حرام ہے۔مگر روایت نمبر ۷ ۲۴۷ سے اس کے خلاف ثابت ہے اور اسی پر شراب کے برتن کا بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔فَإِنْ كَسَرَ صَنَمًا أَوْ صَلِيْبًا اَوْ طُنُبُورًا اَوْ مَا لَا يُنْتَفَعُ بِخَشَبِهِ: اس طرح صلیب اور ساز طرب و سماع کے توڑنے کا کسی کو حق نہیں کہ وہ گر جوں اور مندروں میں داخل ہو کر صلیبیں یا بہت توڑے کیونکہ وہ عیسائیوں اور بت پرستوں کی ملکیت میں ہیں اور غیر کی ملکیت میں دخل دینا جائز نہیں اور اس امر کے جواز کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے استدلال کرنا قیاس مع الفارق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں ایک جہاد کے بعد فاتحانہ شان سے داخل ہوئے تھے اور رائج الوقت دستور کے مطابق وہ دشمن کی ہر شئے کے مالک تھے اور بطور مالک اُن کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہتے کر سکتے تھے۔مگر آپ نے صرف طَهَّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السجود (البقرة : ۱۲۶) کے حکم کی تعمیل میں بتوں کو توڑ کر بیت اللہ کی تطہیر فرمائی اور جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ (بنی اسرائیل (۸۲) کی عظیم الشان پیشگوئی پوری فرمائی۔قریش مکہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ما بہ النزاع امر یہی تھا کہ بیت اللہ میں جو بت پرستی ہو رہی ہے وہ ملت ابراہیمی اور توحید خالص کے خلاف ہے اور انہوں نے تلوار کے ذریعے اس کا فیصلہ چاہا اور تلوار کے ذریعے جو فیصلہ ہوا اُس کے سامنے انہوں نے سرتسلیم خم کیا۔دیکھئے آیت أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (الحج: ٢٠) باب کی تیسری روایت سے ظاہر ہے کہ ایک پردہ جس پر تصویریں تھیں ، پھاڑ کر اس سے بیٹھنے کا گدیلہ یا تکیہ بنایا گیا تھا اور یہ ایک ذاتی ملکیت تھی۔ہر شخص اپنی ذاتی ملکیت میں جیسا چاہے تصرف کر سکتا ہے۔سَهْوَة کے معنے طاقچہ جس میں چیزیں رکھی جاتی ہیں اور آج کل ہمارے ہاں اس غرض کے لئے الماری ہے۔ان تینوں روایتوں سے مذکورہ بالا استفتاء کا جواب اثبات میں نہیں بلکہ نفی میں ہے۔حالت صلح و امن کا قانون شریعت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے مذہبی امور میں آزاد ہے اور اس کو آزادی سے محروم کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔مذہبی آزادی اور رواداری ایک مسلمہ قانون شریعت اسلامیہ ہے۔قاضی شریح کے حوالے سے بھی صلیب وغیرہ توڑنے کا جواز ثابت نہیں