صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 419
صحيح البخاری جلدم ۴۱۹ ۴۴- كتاب الخصومات هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتَقَامَ ثُمَّ یہ ارادہ کرنے لگا تھا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور وہ أُخَالِفَ إِلَى مَنَازِلِ قَوْمٍ لَّا يَشْهَدُونَ شروع کی جائے۔پھر اس کے بعد ایسے لوگوں کے گھروں پر جاؤں جونماز میں حاضر نہیں ہوتے۔وہ اندر الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ۔اطرافه: ٧٢٢٤٦٥٧٦٤٤ ہوں اور میں باہر سے اُن کے گھروں کو آگ لگا دوں۔تشریح: إخْرَاجُ اَهْلِ الْمَعَاصِي وَ الْخُصُومِ: اس باب کا تعلق تعزیری کاروائی سے ہے۔جو لوگ احکام الہی کی خلاف ورزی کرتے ہیں اُس کا علم ہونے کے بعد ان کی اصلاح کے بارے میں تساہل سے کام لینا درست نہیں ورنہ بدی کی بیخ گئی نہ ہوگی بلکہ اُس کی جڑ مضبوط ہو کر اُس کی شاخیں پھیلیں گی اور قوم کو تباہ کر دے گی۔مندرجہ بالا روایت میں باجماعت نماز میں شریک نہ ہونے والوں کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے متعلق سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔اس واقعہ سے عام دستور العمل کا استدلال کیا گیا ہے کہ تنازعات کے استیصال میں بھی اس قسم کے شعور احساس سے کام لینا چاہیے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ (آل عمران : (۱۱) کہ جماعت مسلمہ کے فرائض میں سے ہے کہ اس کا ہر فر دامر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو سرانجام دے۔وَقَدْ أَخْرَجَ عُمَرُ أَخْتَ أَبِي بَكْرٍ حِيْنَ نَاحَتْ : عنوان باب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی : بہن کے نوحہ کرنے پر اُن پر اظہار ناراضگی کا واقعہ طبقات ابن سعد میں بروایت سعید بن مسیب منقول ہے کہ حضرت ابو بکر کی وفات پر ان کے گھر میں رشتہ دار عورتیں جمع ہو گئیں اور نوحہ کرنا شروع کر دیا۔حضرت عمر نے انہیں اس سے روکا۔وہ نہ رکیں۔آخر انہوں نے ہشام بن ولید سے کہا کہ ان کو گھر سے نکال دیا جائے۔اسحاق بن راہویہ کی مسند میں بھی یہی روایت منقول ہے۔اس میں ذکر ہے کہ انہوں نے درہ لے کر ایک ایک کر کے سب کو نکال دیا۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۹۳) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۶۰،۲۵۹) روایت نمبر ۲۴۲۰ کتاب الاذان باب ۲۹ روایت نمبر ۶۴۴ میں بھی آچکی ہے۔بَابِ ٦ : دَعْوَى الْوَصِيِّ لِلْمَيِّتِ میت کے وصی کا دعویٰ کرنا ٢٤٢١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۲۴۲۱ عبدالله بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، زہری الطبقات الكبرى، الطبقة الأولى على السابقة في الإسلام ممن شهد بدرا، من بني تيم بن مرة بن كعب، ابوبكر الصديق، ذكر وصية أبي بكر، جزء۳ صفحه (۱۱)