صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 413
صحيح البخاري - جلد ۴ مام ۴۴ - كتاب الخصومات باب ۲ : مَنْ رَدَّ أَمْرَ السَّفِيْهِ وَالضَّعِيْفِ الْعَقْلِ وَإِنْ لَّمْ يَكُنْ حَجَرَ عَلَيْهِ الْإِمَامُ جو شخص نادان اور کم عقل کا طے کردہ معاملہ رڈ کر دے خواہ حاکم نے اُس کے لئے پابندی کا حکم نہ بھی دیا ہو صلى الله عروسة وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ عَلَی نے منع کرنے سے پہلے صدقہ دینے والے کو (اُس کا الْمُتَصَدِّقِ قَبْلَ النَّهْيِ ثُمَّ نَهَاهُ۔ وَقَالَ صدقہ ) واپس کر دیا۔ پھر اس کے بعد اُس کو صدقہ مَالِكٌ إِذَا كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ دینے سے منع کیا۔ اور مالک نے کہا: اگر ایک شخص کا مَالٌ وَلَهُ عَبْدٌ وَلَا شَيْءٍ لَهُ غَيْرُهُ فَأَعْتَقَهُ { کسی شخص کے ذمہ ) کچھ مال ہو اور اس کے پاس لَمْ يَجْزْ عِتْقُهُ ۔ ایک غلام ہو۔ اسکے سوا اُس کی کوئی چیز بھی نہیں اور وہ اس غلام کو آزاد کر دے تو اُس کا آزاد کرنا جائز نہ ہوگا۔ بَاب ٣ : مَنْ بَاعَ عَلَى الضَّعِيْفِ وَنَحْوِهِ فَدَفَعَ ثَمَنَهُ إِلَيْهِ وَأَمَرَهُ بِالْإِصْلَاحِ وَالْقِيَامِ بِشَأْنِهِ فَإِنْ أَفْسَدَ بَعْدُ مَنَعَهُ (اور ) جو کم عقل اور اس قسم کے لوگوں کا مال فروخت کرے اور مال کی قیمت اُن کو دیدے اور اُن سے کہے کہ بر محل خرچ کرنا اور اس سے کاروبار چلانا اور پھر اگر وہ اس کے بعد ( روپیہ کو ) برباد کر دیں تو (حاکم اس پر مال کے تصرف میں ) پابندی لگا سکتا ہے لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال ضائع کرنے سے عَنْ إِضَاعَةِ الْمَالِ وَقَالَ لِلَّذِي يُخْدَعُ منع فرمایا ہے اور جو خرید وفروخت میں ٹھگا جاتا تھا، فِي الْبَيْعِ إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ آپؐ نے اُس سے کہا: جب تم خرید وفروخت کے وَلَمْ يَأْخُذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرو تو یہ کہ دیا کرو: دھوکہ فریب کی بات نہ ہوگی اور مَالَهُ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال نہیں لیا۔ الفاظ عَلَى رَجُلٍ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ۹۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ الباری کے ام الباری فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہاں ”بائعت“ کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۹۱)