صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 412 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 412

صحيح البخاری جلدم ۴۱۲ ۴۴- كتاب الخصومات امام مسلم نے بھی انہی معنوں میں ایک روایت حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ان الفاظ میں نقل کی ہے: قَالَ هَجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ الله يَوْمًا قَالَ فَسُمِعَ اَصْوَاتُ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ الله الا الله يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ۔(مسلم) كتاب العلم، باب النهي عن اتباع متشابہ (القرآن) حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن دو پہر کے وقت آیا تو دو آدمیوں کی آوازیں سنی گئیں جو ایک آیت کی قرآت سے متعلق جھگڑ رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔آپ کے چہرے پر ناراضگی نمایاں تھی۔آپ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ اسی لئے ہلاک ہو گئے کہ انہوں نے اپنی کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔اس قیمتی نصیحت کے باوجود مسلمانوں نے فقہی اختلافات کو جو دراصل نقطہ نظر اور انداز فکر کا اختلاف تھا، بجائے رحمت، مخاصمت کی صورت میں زحمت بنادیا۔ایک دوسرے کے کفر و الحاد تک نوبت پہنچادی اور ان کی اس جہالت نے معصوموں پر وہ وہ ستم ڈھائے ہیں کہ اُن کی داستان پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔لَا تُخَيَّرُونِي عَلَى مُوسَی : دوسرا واقعہ ایک مسلم اور یہودی کے مذہبی تعصب کا جھگڑا ہے جس کی بناء پر ایک دوسرے سے گالی گلوچ ہوئی۔اول الذکر نے طیش میں آکر دوسرے کو طمانچہ مارا۔جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کی فضیلت ایک دوسرے پر ایسے طور پر نہ کرو کہ اُن میں سے کسی کی ہتک کا شبہ ہو اور ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس لگے۔اہل مذاہب کی بڑی بیماری اُن کا یہی مذہبی تعصب ہے جس نے اُن کو ایک دوسرے کا گریباں گیر ہی نہیں بلکہ گلو گیر بنا رکھا ہے۔اسلام نے تمام ادیان کے ہادیوں اور مذہبی پیشواؤں کا ادب و احترام لازمی قرار دے کر بہت سے جھگڑوں کی جڑھ پر تبر رکھ دیا ہے۔شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے حدیث مذکورہ بالا میں یہی سبق متبعین کو سکھایا ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب دنیا کا حسن (انوار العلوم جلده اصفحه ۲۴۵ تا۲۵۰) رُضٌ رَاسُهُ بَيْنَ حَجَرَین : ایک مسلمان انصاری لڑکی کو زیور پہنے دیکھ کر ایک یہودی کا دل للچایا۔زیور اُتارنے سے قبل اسے پتھر مار کر بے ہوش کر دیا۔ہوش آنے پر وہ لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی۔زیر الزام یہودی کی شناخت ہونے سے اور اُس کے اقرار کرنے پر حسب دستور شریعت موسوی اُس سے انتقام لیا گیا۔امام بخاری نے یہ واقعہ بھی مذہبی تعصب ہی پر محمول کیا ہے، جیسا کہ عنوان باب میں الفاظ الْخُصُومَةُ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِ سے اس طرف اشارہ ہے۔