صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 400
صحيح البخاری جلدم ۴۳- كتاب الاستقراض امام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۴۴) تیسرے حوالے کے لئے کتاب الكفالة، بابا دیکھئے۔جہاں ایک اسرائیلی شخص کا واقعہ بسند لیث مروی ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ وہ میعادی قرض تھا مگر یہ واقعہ شرعی مسئلہ مستنبط کرنے کے لئے کافی نہیں۔امام بخاری نے اپنی رائے اس بارہ میں محفوظ رکھی ہے۔غالباً اس لئے کہ میعادیا غیر میعاد کا مسئلہ شخصی حالات سے تعلق رکھتا ہے۔باب ۱۸: الشَّفَاعَةُ فِي وَضْعِ الدَّيْنِ قرض میں کمی کرنے کی سفارش کرنے کا بیان ٢٤٠٥ حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا :۲۴۰۵ موسی ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيْرَةَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مغیرہ سے مغیرہ رضى جَابِرٍ الله قَالَ: أُصِيْبَ عَبْدُ اللَّهِ نے عامر (شعبی) سے، عامر نے حضرت جابر وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا فَطَلَبْتُ إِلَى رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ حضرت أَصْحَابِ الدَّيْنِ أَنْ يَضَعُوا بَعْضًا مِنْ عبداللہ شہید ہوئے اور بال بچے اور قرض چھوڑ گئے۔میں نے قرض خواہوں سے چاہا کہ وہ اُن کے قرض دَيْنِهِ فَأَبَوْا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے کچھ چھوڑ دیں۔وہ نہ مانے تو میں نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ فَاسْتَشْفَعْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے چاہا کہ اُن کے فَقَالَ : صَنِفْ تَمْرَكَ كُلَّ شَيْءٍ مِنْهُ عَلَى پاس اس کی سفارش فرمائیں۔وہ پھر بھی نہ مانے۔حِدَتِهِ عِدْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ وَاللَّيْنَ آپ نے فرمایا: اپنی کھجوروں کو قسم وار ترتیب دو اور عَلَى حِدَةٍ وَالْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ ثُمَّ انہیں علیحدہ علیحدہ کر دو۔عذق بن زید قسم کی کھجورا الگ أَحْضِرْهُمْ حَتَّى آتِيكَ فَفَعَلْتُ ثُمَّ جَاءَ ہو اور بین الگ ہو اور عجوہ الگ ہو۔پھر میرے آنے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ عَلَيْهِ تک قرض خواہوں کو لے آؤ۔میں نے ایسا ہی کیا۔وَكَالَ لِكُلِّ رَجُلٍ حَتَّى اسْتَوْفَى وَبَقِيَ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھجوروں کے ڈھیر التَّمْرُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ۔پر بیٹھ گئے اور ہر شخص کو ماپ کر دیتے گئے یہاں تک کہ ہر شخص نے اپنا حق پورا کا پورا پالیا اور کھجور ویسی ہی رہی ، گویا کہ اسے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔اطرافه ۲۱۲۷، ۲۳۹۵، ۲۳۹۶، ۲۰۰۱، ۲۷۰۹، ۲۷۸۱، ۳۵۸۰، ٤٠٥٣، ٦٢٥٠