صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 396 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 396

صحيح البخاری جلدم ۳۹۶ ۴۳- كتاب الاستقراض قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ : فرماتے تھے: جو اپنا مال بجنسہ کسی شخص یا ( کہا :) مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ أَوْ انسان کے پاس پائے جو مفلس ہو گیا ہو تو وہ دوسرے إِنْسَانِ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ ( قرض خواہوں ) کی نسبت اُس کا زیادہ حق دار ہوگا۔فریح: إِذَا وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ فِى الْبَيْعِ وَالْقَرْضِ وَالْوَدِيْعَةِ فَهُوَ اَحَقُّ بِهِ: یعنی اگر بائع یا قرض خواہ یا امانت والا اپنا سامان مفلس کے پاس پائے تو وہ اپنا سامان لینے کا حق دار ہو گا۔مفلس سے مراد وہ شخص ہے جو قانون دیوالیہ قرار دے دیا جائے۔عنوانِ باب حدیث کے الفاظ سے ماخوذ ہے جس میں مطلق اس مال کا ذکر ہے جس کی قیمت مشتری نے ادا نہ کی ہو اور عاریتا لئے ہوئے سامان کا بھی اسی پر قیاس کیا گیا ہے۔امانت کی واپسی کے بارے میں تو فقہاء کا اجماع ہے مگر قرض اور بیچ کی اشیاء سے متعلق مالکی فرق کرتے ہیں۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۷۹) چونکہ مقروض اور مشتری دونوں کا عقد کے ذریعہ سے مالکانہ حق قائم ہو چکا ہے۔جب تک وہ عقد بذریعہ دار القضاء نسخ نہیں ہو جاتا، اُس وقت تک مقروض یا مشتری کے قبضہ کی اشیاء نہیں لی جاسکتیں۔رائج الوقت قانون کی مدد سے بذریعہ شرقی سامان پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔قطع نظر اس سے کہ موجودہ سامان قرض خواہ یا بائع میں سے کسی کا ہو یا خود مقروض کا۔یہ سامان فروخت کر کے اس کی آمد قرض خواہوں کے درمیان بحصہ رسدی تقسیم ہوگی۔إِذَا أَفْلَسَ وَ تَبَيَّنَ لَمْ يَجُزُ عِتْقُهُ وَلَا بَيْعُهُ وَلَا شِرَآءُ هُ : اگر کوئی شخص مفلس ہو جائے اور اُس کا افلاس بذریعہ شہادت و تحقیق قاضی پر واضح ہو اور وہ اُس کی مفلسی کا فیصلہ کر دے تو ایسے شخص کا غلام قرضے کی ادائیگی کے لئے فروخت یا آزاد نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کا خریدنا جائز ہوگا بلکہ وہ قانونی نگرانی میں رہے گا اور دارالقضاء اُس سے متعلق فیصلہ کرے گی۔اس فتویٰ سے ظاہر ہے کہ اعلان افلاس سے قبل ہر قسم کا تصرف کیا جاسکتا ہے۔لیکن فیصلہ دار القضاء کے بعد مالک اپنی مملوکہ اشیاء غلام وغیرہ سے متعلق کسی قسم کے تصرف کا مجاز نہیں بلکہ غلام و دیگر مملوکہ اشیاء قانونا عدالت کے تصرف میں رہیں گی۔اس تعلق میں ابراہیم مخفی کا فتویٰ مختلف ہے۔ان کے نزدیک مجبور پابند عدالت کو اپنی اشیاء فروخت کرنا جائز ہے لیکن جمہور اس فتوے سے متفق نہیں، بجز اس کے کہ قرضہ ہی کی ادائیگی کے لئے فروخت کرے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۷۹ ) ( عمدۃ القاری جلد ۲ صفحہ ۲۳۷) مَنِ اقْتَضَى مِنْ حَقِهِ قَبْلَ أَنْ تُفْلِسَ فَهُوَ لَهُ : مذکورہ بالا مسئلہ کے تعلق میں سعید بن مسیب کی سند سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے کہ قاضی کے اعلانِ افلاس سے قبل جو تصرف کیا گیا ہو، وہ برقرار رہے گا۔یہی جمہور کا مذہب ہے۔سعید بن مسیب کی مشار الیہ روایت محمد بن ابی حرملہ سے منقول ہے کہ حضرت ام حبیبہ کا آزاد کردہ غلام مفلس ہو گیا اور قرض خواہوں نے اپنا قضیہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے اس بارے میں جو فیصلہ فرمایا ، اس کے یہ الفاظ ہیں: انَّ مَنْ كَانَ اقْتَضَى مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يُتَبَيَّنَ إِفَلَاسُهُ