صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 333 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 333

صحيح البخاری جلدم ا - كتاب الحرث والمزارعة رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پر غالب آئے تو آپ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ نے خیبر سے یہود کے نکالنے کا ارادہ کیا تھا اور جب مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِيْنَ ظَهَرَ عَلَيْهَا آپ اس پر غالب ہوئے تو اس کی زمین اللہ اور اس لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہوگئی تھی وَلِلْمُسْلِمِيْنَ وَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ اور آپ نے یہود کو اس سے نکالنا چاہا تو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقِرَّهُمْ بِهَا أَنْ يَكْفُوْا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ کا ہوگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: لَهُمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہم تمہیں اس میں جب تک چاہیں، اس پر رہنے نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا دیتے ہیں۔چنانچہ وہ وہاں رہے، یہاں تک کہ فَقَرُوْا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَى حضرت عمرؓ نے انہیں تیما ، اور اریحاء کی طرف تَيْمَاءَ وَأَرِيْحَاءَ۔اطرافه ۲۲٨٥، ۲۳۲۸، ۲۳۲۹، ۲۳۳۱، ۲٤۹۹، ۲۷۲۰، ٣١٥۲، ٤٢٤٨۔انہیں وہیں رہنے دیں؛ اس شرط پر کہ اس زمین میں محنت مزدوری کریں گے اور پیداوار کا آدھا حصہ اُن تشریح: جلا وطن کر دیا۔لَمْ يَذْكُرُ أَجَلًا مَّعْلُومًا فَهُمَا عَلَى تَرَاضِيهِمَا: معنونہ مسئلہ سے تعلق میں باب 9 مع تشریح بھی دیکھئے۔تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ تيماء وادی القریٰ میں اور اریحاء بیت المقدس اور بحیرہ مردار کے درمیان واقع ہے۔قدیم زمانہ سے یہ دونوں بستیاں مشہور ہیں۔اریحاء اب حکومت شرقی اردن میں ہے اور آباد شہر ہے۔۱۹۱۷ء میں مجھے دو دفعہ وہاں جانے کا موقع ملا اور میں نے اس کے کھنڈرات دیکھے۔جن سے اس شہر کے قدیم تمدن کا پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی وقت بار وفق شہر تھا۔گنے کی کاشت اور شکر سازی کے لئے مشہور تھا۔اہل تیماً ء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں جزیہ کی ادائیگی کا معاہدہ کر کے صلح کرلی تھی۔(فتوح البلدان بلاذری، أمر وادى القرى وتيماء، جزء اول صفحه ۴۰)