صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page iii
بدالله ال التي پیش لفظ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان اور اس کی دی ہوئی توفیق کے بغیر انسان ایک تنکا بھی نہیں اٹھا سکتا۔بادی کامل حضرت اقدس محمد مصطفی سالم نے فرمایا: اگر تمہیں ایک تسمے کی بھی ضرورت ہو تو خدا سے مانگو۔ی اسی ذوالمنن خدا کا احسان ہے کہ اس نے ہم ناچیزوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی سب سے چوٹی کی کتاب جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے، کے ترجمہ و شرح پر مشتمل چوتھی جلد مکمل کرنے کی سعادت بخشی ہے۔ایں سعادت بزور بازو نیست۔اس سے قبل بخاری کا جو حصہ مکمل ہو چکا ہے وہ بخاری کی پہلی کتاب بدء الوحی سے شروع ہو کر کتاب الاعتکاف تک اختتام پذیر ہوا ہے جس میں وحی، ایمان، علم، وضو، غسل وغیرہ کے بعد کتاب الصلوۃ، کتاب الصوم، زکوۃ اور حج کے موضوع پر احادیث کا مجموعہ تھا۔اب یہ جلد کتاب البیوع سے شہادات تک ۱۹ کتب پر مشتمل ہے۔گویا ایمانیات ، عبادات کے بعد اب معاملات کا حصہ شروع ہورہا ہے، جس میں خرید و فروخت کی مختلف صورتوں اور باہم لین دین کے مسائل و دیگر معاشرتی معاملات تفصیل سے آئیں گے۔نیز کتاب البیوع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بائیبل کی پیشگوئی کا ذکر ہے کہ وہ نبی کن اعلیٰ اخلاق کا مالک ہوگا کیونکہ انسان کے اخلاق کا پتہ تب چلتا ہے جب اس کا واسطہ دوسروں سے پڑتا ہے۔ان ابواب میں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ کا بیان ہے وہاں روز مرہ کی زندگی میں ایسے ہی اعلیٰ اخلاق کی ایک مومن سے توقع کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان اوصاف کا وارث بنائے۔آمین۔اللہ تعالیٰ کی حمد کا ایک یہ طریق بھی ہے کہ اس کے آگے سجدات شکر بجالانے کے ساتھ ساتھ ان احباب کا بھی شکریہ ادا کیا جائے جن کی معاونت حاصل رہی۔فجزاهم الله احسن الجزاء