صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 121 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 121

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۲۱ ۳۴- كتاب البيوع حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ منع فرمایا ہے اور یہ ایک قسم بیع تھی جو زمانہ جاہلیت الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ کے لوگ آپس میں کیا کرتے تھے۔ایک شخص اُونٹ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ثُمَّ تُنتَجُ الَّتِي في خرید تا اس شرط پر کہ قیمت اس وقت ادا کی جائے گی ، جب اونٹنی جنے گی اور پھر اس کے بعد وہ بچہ (اونٹنی ) بَطْنِهَا۔اطرافه: ٢٢٥٦، ٣٨٤٣ جو اس کے پیٹ میں ہے، جنے گی۔تشريح : بَيْعُ الْعَرَدِ وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ: الْغَرَرُ، غَرَّ يَفِرُّ سے اسم مشتق ہے۔جس کے معنے میں ایسی بیچ جو خطرہ میں ہو اور اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ ظاہر میں خوشنما اور باطن نامعلوم۔ہر قسم کی قمار بازی پر یہ لفظ اطلاق پاتا ہے۔لفظ الْحَبَلَةُ جمع ہے حَابِل کی۔جس کے معنی ہیں حاملہ فقرہ حَبَلُ الْحَبَلَةِ معطوف خاص ہے جس کا عطف بَيْعُ الْغَرَر پر ہے، جو عام ہے۔بیعُ الْعَرَد کی مثال ایک خاص قسم کی بیچ سے دی گئی ہے جو بچہ جنے کی شرط پر قرار پاتی تھی۔یعنی فلاں اونٹنی اگر اتنے بچے جنے گی تو اس کی اتنی قیمت دی جائے گی۔(عمدۃ القاری جزء اصفہ ۲۶۴) ( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۴۵۱،۴۵) خرید وفروخت کی یہ تم مبہم اور غیر یقینی ہے جو تمہار کی ایک قسم ہے۔ایسا کاروبار اور لین دین اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے؛ اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔باقی صورتوں کی جو بیع غرر میں اختیار کی جاسکتی ہیں۔مثلاً تالاب، دریا اور سمندر کی مچھلیوں وغیرہ کا سودا اس شرط پر کرنا کہ اتنے من برآمد ہونے پر اتنا دیا جائے گا، یہ جائز نہیں۔اس کی نسبت مسند احمد بن جنبل کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: لَا تَشْتَرُوا السَّمَكَ فِي الْمَاءِ فَإِنَّهُ غَرَرٌ۔(مسند احمد بن قبل، مسند عبد اللہ بن مسعود، جزء اول صفحہ ۳۸۸) ایسی مچھلی نہ خرید و جو ابھی پانی میں ہے، کیونکہ وہ دھوکے کی بیچ ہے۔لیکن جس شئے کا اندازہ ہو سکتا ہو، علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔(فتح الباری جز ۴ صفحه ۴۵۱ ) (عمدۃ القاری جزءا صفحه ۲۶۴) بَاب ٦٢ : بَيْعُ الْمُلَامَسَةِ بیع ملامه قَالَ أَنَسٌ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (اور) حضرت انس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔وَسَلَّمَ عَنْهُ۔٢١٤٤: حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ عُفَيْرٍ :۲۱۴۴: سعید بن غفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ليث بن سعد) نے مجھے بتایا، کہا بعقیل نے مجھ سے