صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page xii
صحيح البخاری جلدم ix ٣٩ - كِتَابُ الْكَفَانَةِ فهرس باب ا : الْكَفَالَةُ فِي الْقَرْضِ وَالدُّيُونِ بِالْأَبْدَانِ قرض اور لین دین میں بدنی ( اور مالی ) ضمانت کے بارہ وَغَيْرِهَا۔میں احکامات۔باب : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ اللہ عزوجل کا ارشاد: جن سے تم نے قسم کھا کر عہد و پیمان أَيْمَانُكُمْ فَأْتُوهُمْ نَصِيبَهُمُ۔کیا ہے ان کا حصہ ان کو دے دو۔۔باب ٣ : مَنْ تَكَفَّلَ عَنْ مُيّتٍ دَيْنًا فَلَيْسَ لَهُ آن جو شخص کسی میت کی طرف سے قرض کی ادائیگی کی ) يُرْجِعَ ذمہ داری لے وہ اس سے پھر نہیں سکتا۔۲۶۷ ۲۷۱ ۲۷۳ باب : حِوَارُ أَبِي بَكْرٍ فِي عَهْدِ النبي ﷺ وَعَقْدُهُ نبی ﷺ کے زمانہ میں ابوبکر کو پناہ دیا جانا اور ان کا عہد کرنا ۲۷۵ باب ۵ : الدِّينُ قرضہ کے بارے میں ارشاد ٤٠ - كِتَابُ الوَكَانَةِ باب ا : وَكَالَةُ الشَّرِيكِ الشَّرِیكَ فِي الْقِسْمَةِ ایک شریک کا تقسیم وغیرہ میں دوسرے شریک کو کام سپرد وَغَيْرِهَا۔کرنا باب ٢ : إِذَا وَكَّلَ الْمُسْلِمُ حَرْبِيًّا فِي دَارِ الْحَرْبِ اگر کوئی مسلمان کسی حربی (کافر) کو دارالحرب میں یا ۳ أَوْ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ جَازَ وار الاسلام میں وکیل کرے تو جائز ہوگا صرافی اور ماپ تول میں وکیل کرنا باب : الْوَكَالَةُ فِي الصَّرْفِ وَالْمِيزَانِ۔باب : إِذَا أَبْصَرَ الرَّاعِي أَوِ الْوَكِيلُ شَاةً تَمُوتُ جب چرواہا یا وکیل بکری مرتی دیکھے یا کوئی چیز بگڑتی أَوْ شَيْئًا يَفْسُدُ ذَبَحَ أَوْ أَصْلَحَ مَا يَخَافُ دیکھے تو ( بکری ذبح کرلے اور وہ چیز جس کے خراب ہونے کا خوف ہو، اسے درست کر دے۔عَلَيْهِ الْفَسَادَ قرض ادا کرنے کے لئے وکیل کرنا باب ۵ : وَكَالَةُ الشَّاهِدِ وَالْغَائِبِ جَائِزَةٌ۔حاضر اور غائب ہر ایک کو وکیل کرنا جائز ہے۔باب ٦ : الْوَكَالَةُ فِي قَضَاءِ الدُّيُون :باب: إِذَا وَهَبَ شَيْئًا لِوَكِيْل أَوْ شَفِيعِ قَوْمٍ جَازَ۔۔۔۔اگر کوئی کسی وکیل یا کسی قوم کے سفارشی کو کچھ ہبہ کردے تو یہ جائز ہوگا باب : إِذَا وَكَّلَ رَجُلٌ رَجُلًا أَنْ يُعْطِيَ شَيْئًا وَلَمْ اگر کوئی شخص کسی کو کچھ دینے کے لئے وکیل کرے اور یہ يُبَيِّنُ كَمْ يُعْطِي فَأَعْطَى عَلَى مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ۔۔۔کھول کر نہ بتائے کہ کتنا دے اور اس نے دستور عامہ اگر من امي و کے مطابق دے دیا ہو۔۲۸۰ ۲۸۳ ۳۸۴ ۲۸۷ ۲۸۸ ۲۹۰ ۲۹۱ ۲۹۲ ۲۹۵