صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 721 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 721

صحيح البخاری جلد ۳ ۷۲۱ ۳۳ - كتاب الاعتكاف تشريح : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَخْرُجَ : بعض فقہاء نے یہجائز قرار دیا ہےکہ اعتکاف شروع کر کے فسخ کیا جا سکتا ہے ۔ ( فتح الباری شرح باب ۶ جزء ۴۰ صفحه ۳۵۱، شرح باب ۱۸ جز ۴۰ م صفی (۳۶۲) لیکن انہوں نے اس جواز کے لئے روایت نمبر ۲۰۴۵ سے جو استدلال کیا ہے وہ درست نہیں۔ عنوان باب میں امام بخاری نے تصریح کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں داخل نہیں ہوئے تھے بلکہ صرف ارادہ اعتکاف کیا تھا جو نسخ نہیں بلکہ ملتوی ہوا تھا۔ چنانچہ بعد میں وہ ارادہ پورا کیا گیا۔ مذکورہ بالا روایت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ اعتکاف کے لئے اُس جگہ جا رہے تھے جو آپ کے اعتکاف کے لئے تیار کی گئی تھی کہ اتنے میں چھولداریوں پر نظر پڑی اور سبب معلوم ہونے پر آپ کوٹ آئے پیشتر اس کے کہ آپ اعتکاف گاہ میں داخل ہوتے ۔ بَاب ۱۹ : الْمُعْتَكِفُ يُدْخِلُ رَأْسَهُ الْبَيْتَ لِلْغُسْلِ مختلف جو اپنا سر دھلوانے کے لئے حجرے کے اندر کرتا ہے ٢٠٤٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۰۴۶ : عبد الله بن محمد (مسندی ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (کہا) کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ معمر نے عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِلُ کی کہ وہ نبی ﷺ کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھیں، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ مختلف ہوتے اور حضرت عائشہ) رت عائشہ اپنے حجرے میں ہی وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا يُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ۔ رہتیں ۔ آپ اپنا سر ان کی طرف بڑھا دیتے۔ اس حال میں کہ وہ حائضہ ہوتیں اور آپ مسجد میں اطرافه ۲۹۰، ۲۹۶، ۳۰۱، ۲۰۲۸ ، ۲۰۲۹، ۲۰۳۰، ۲۰۳۱، ٥٩٢٥۔ تشريح : الْمُعْتَكِفُ يُدْخِلُ رَأْسَهُ الْبَيْتَ لِلْغُسلِ : باب ) میں حضرت عائشہ کی یہ روایت گذر چکی ہے اور وہاں نہانے دھونے کے بارے میں عنوان قائم کیا گیا ہے۔ ہا ہے۔ یہاں خاتمے پر اس مضمون کا اعاد ا اعادہ بظاہر صلى الله بے جوڑ معلوم ہوتا ہے۔ دراصل اس باب میں فقہاء کی توجہ آنحضرت ﷺ کی غایت درجہ احتیاط کی طرف منعطف کی گئی ہے کہ بحالت اعتکاف مسجد میں خلوت ستینی پر مداومت ضروری ہے اور اس سے ادھر اُدھر نکلنا جائز نہیں۔ اگر یہ جائز ہوتا تو آنحضرت یا سر دھلوانے یا کنگھی کرانے میں اس قدر تکلف سے کام نہ لیتے جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ مسجد سے بالکل ملحق تھا۔ آپ کی یہ احتیاط بتاتی ہے کہ اعتکاف کے لئے مسجد میں قیام ضروری رکن ہے اور جب آپ نے بغرضِ اصلاح ایک دفعہ اعتکاف ترک کیا تو آپ نے نیت فسخ نہیں کی بلکہ دعا بدستور قائم رہی اور شوال میں پوری کی ۔ یہ مضمون ہے آخری ابواب کا اور اس تعلق میں حضرت عائشہ کی محولہ بالا روایت ایک دوسری سند سے دُہرائی گئی ہے۔ 0000000000