صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 717
صحيح البخاري - جلد 3 كاك ٣- كتاب الاعتكاف عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سے، اُن کے بھائی نے سلیمان سے، سلیمان نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عبید اللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے، حضرت عبداللہ نے رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے جاہلیت میں نذر أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ مبانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات انا اعتکاف بیٹھوں فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گا۔ آپ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔ چنانچہ وہ أَوْفِ نَذْرَكَ فَاعْتَكَفَ لَيْلَةً۔ ایک رات مختلف ہوئے ۔ اطرافه ۲۰۳۲، ۲۰۱۳، ٣١٤٤، ٤٣٢٠، 6697۔ تشريح : مَنْ لَّمْ يَرَ عَلَيْهِ إِذَا اعْتَكَفَ صَوْمًا: اعتکاف سے متعلق یہ سال بھی۔ ا یہ سوال بھی ہے کہ آیا اس کی صحت -------- کی کے لئے روزہ بطور شرط واجب ہے یا مستحب اور اس کے بغیر اعتکاف درست ہے یا نہیں؟ ائمہ اربعہ کے نزدیک جو اعتکاف بطور نذر واجب ہے اس کے لئے روزہ شرط ہے۔ یہی مذہب حضرت علی، حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ وغیرہ کا ہے مگر حضرت عبداللہ بن مسعود ، طاؤس اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ کے نزدیک روزہ شرط نہیں؛ نہ اعتکاف واجب میں نہ اعتکاف نفلی میں ؛ سوائے اس کے کہ مختلف اپنی خوشی سے روزہ رکھ لے۔ پہلے گروہ نے حضرت عائشہ کی روایت سے استدلال کیا ہے جو سنن ابی داؤد میں منقول ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ۔ (ابوداؤد، كتاب الصوم، باب المعتكف يعود المريض) اور اس سے یہ مراد لی ہے کہ وہ اعتکاف جو رمضان میں ہوتا ہے۔ اُس میں روزہ رکھنا ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں جو نذر مانی تھی وہ شرعی مسئلہ کے استنباط کے لئے کافی نہیں۔ جب تک کہ یہ ثابت نہ ہو کہ مطلق اعتکاف کے لئے اُن دنوں روزہ بھی رکھا جاتا تھا۔ قدیم عربوں میں جو یہودی خیالات سے متاثر تھے رات کا وقت بھی روزے کا حصہ ہوتا تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ سبت کا وقت جمعہ کے بعد عصر سے شروع ہوتا اور سبت میں یہودی روزہ رکھتے ۔ اس سے بعض نے یہ قیاس کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا روزہ بھی رات کو ہوگا۔ اس بارے میں انہیں بعض روایات بھی ملی ہیں۔ جن سے انہوں نے اپنے استدلال کے لئے سہارا لیا ہے۔ مگر یہ روایات کمزور ہیں مستند نہیں کہ اُن سے کوئی مسئلہ اخذ کیا جا سکے۔ ابو داؤد نے بھی اس بارے میں ایک روایت نقل کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: اعْتَكِفُ وَصُمُ۔ (ابو داؤد، كتاب الصوم، باب المعتكف يعود المریض اور سنن الدارقطنی میں یہ الفاظ ہیں : فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ وَ يَصُومَ ۔ (سنن الدار قطنی، کتاب الصيام، باب الاعتكاف جزء ۲ صفحہ ۲۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا کہ اعتکاف بیٹھیں اور روزہ رکھیں ۔ یہ روایتیں غیر مستند ہیں۔ بعض مالکی فقہاء نے آیت ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي