صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 696 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 696

صحيح البخاری جلد ۳ ५०५ ۳۲ - کتاب فضل ليلة القدر یعنی وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب لڑتے ہیں تو اپنے تہ بند مضبوطی سے باندھ کر عورتوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ، خواہ وہ طہر کی حالت میں ہی ہوں۔أَحْيَا لَيْلَهُ : رات بھر عبادت گذاری میں بیدار رہتے۔یعنی رات کا بیشتر حصہ عبادت میں گزارتے۔رات کو زندہ رکھنے سے یہی مراد ہے۔أَيْقَظَ أَهْلَهُ : اپنے اہل بیت کو آپ جگاتے۔اس تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی ہے: اِجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا (بخاری، روایت نمبر ۴۳۲) لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا۔(ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة، باب ما جاء في التطوع في البيت) یعنی اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔رمضان کے دن رات کا بڑا حصہ عبادت، ذکر الہی اور دعاؤں کے لئے وقف رکھنے کے بارے میں جو ہدایت ان روایات میں ہے۔اُس کا تعلق در اصل قیام رمضان اور لیلۃ القدر کی فضیلت کے ابواب ہی سے ہے اور اسی ضمن میں مابعد کے ابواب جن میں اعتکاف کا ذکر ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ ابواب کے قائم کرنے میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے خاص ترتیب ملحوظ رکھی ہے۔