صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 678 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 678

صحيح البخاری جلد ۳ YZA ٣٠- كتاب الصوم دوسرا دور طالمودی، جس میں مشاہدے کے ساتھ مہینوں کے دنوں کی کمی بیشی بھی ملحوظ رکھی جاتی تھی۔بعض مہینے میں دن اور بعض کم و بیش تیسرا دورزمانہ مابعد المودی، جب بابل میں بنی اسرائیل اسیر ہو کر لے جائے گئے۔بابلیوں کی جنتری کشسی و قمری کے حساب پر مبنی تھی۔چھ مہینے میں دن کے اور سات مہینے انتیس دن کے۔یہ مہینے بھی نیسان یعنی اپریل سے شروع ہوتے تھے۔ایام اسیری میں عیدوں اور تہواروں کی تعیین کی غرض سے باہلیوں کا طریق حساب اختیار کیا گیا تھا۔(The Jewish Encyclopedia, under word:Calendar) صحف قدیمہ میں ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ عاشورہ کی بنائی گئی ہے۔(خروج باب ۱۲ آیت ۱۰ تا ۱۹) احبار باب ۲۳ آیت ۲۳ تا ۳۲) اس مہینے کا نام تشری ہے۔نیسان ان کا پہلا مہینہ ہے جو اپریل ہے۔اس حساب سے اکتوبر کا مہینہ تشری ہوگا۔جسے آج کل تشرین اول بھی کہتے ہیں۔اس مہینے کی چودہ تاریخ کو ربیع الاول ختم اور اس کی پندرہویں تاریخ کو ربیع الثانی شروع ہوتا ہے۔تشری کا دوسرانام اہیب ہے۔(خروج باب ۳۴ آیت ۱۹) ابیب کا نام غالباً فصل تیار ہونے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔عربی میں آپ کے معنی تیاری کرنا۔(لسان العرب - ابب) روایت نمبر ۲۰۰۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں آنے کا ذکر ہے۔اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ آپ عاشورہ کے دن تشریف لائے۔اسلامی مؤرخین نے اس دین کی تعیین دوسری یا آٹھویں یا بارہویں ربیع الاول کی ہے اور یہ دن پیر کا تھا مگر محمود پاشا کے اندازے کی رُو سے پیر کا دن دوسری یا بارہویں ربیع الاول کو نہیں ہوتا بلکہ آٹھویں ربیع الاول کو ہوتا ہے۔( تقویم العرب قبل الاسلام) در اصل بنی اسرائیل کو کم تھا کہ دسویں تاریخ کو عاشورہ کا روز و منانے سے قبل اور بعد بھی روزہ رکھیں۔(استثنا باب ۱۶ آیت ا تا ۸ ) ( احبار باب ۲۳ آیت ۲۳ تا۳۲) ان ایام کا تعلق اسی تاریخی واقعہ سے تھا جن میں بنی اسرائیل کو نجات ملی۔اس لئے عاشورہ سے مراد یہی روزے کے دن تھے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے نہ کہ وہ خاص معین دن جس میں بنی اسرائیل نے نجات پائی اور وہ اس دن خوشی مناتے تھے۔اس سے حساب دانوں کو غلطی ہو گئی۔آپ عاشورہ کے خاص دن مدینہ پہنچے جو درست نہیں بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ان ایام میں سے کسی ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تھے جو پیر کا دن تھا۔عاشورہ کے معنے دسواں دن۔اس دن بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ بطور شکرانہ روزہ رکھیں ، عبادت کریں اور سوختنی قربانی کا نذرانہ گزاریں اور یہ بھی حکم تھا کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ تمہارا مقدس مجمع ہو تم اپنی جان کو دکھ دینا اور کسی طرح کا کام نہ کرنا بلکہ سوختنی قربانی کے طور پر ایک بچھڑا، ایک مینڈھا اور سات یک سالہ برے خداوند کے حضور چڑھانا تا کہ یہ راحت انگیز خوشبو ٹھہرے۔(گنتی باب ۲۹ آیت ۷، ۸ ) جان کو دکھ دینے سے مراد روز درکھنا ہے۔oooooooooo