صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 675
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۷۵ ٣٠ - كتاب الصوم حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ سے ابن شہاب نے حمید بن عبد الرحمن سے روایت مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ الله کی کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی عَنْهُمَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ عَلَى الله عنہما کو عاشورہ کے دن جس سال انہوں نے حج الْمِنْبَرِ يَقُوْلُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ کیا، منبر پر کہتے سنا: اے مدینہ والو ! تمہارے علماء عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی کہاں ہیں؟ ( کہ یہ روزہ نہیں رکھتے۔) رسول اللہ الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ هَذَا يَوْمُ صلى الله علیہ وسلم سے میں نے سنا کہ آپ فرماتے عَاشُوْرَاءَ وَلَمْ يَكْتُبِ اللهُ عَلَيْكُمْ تھے: یہ عاشوراء کا دن ہے، اس دن روزہ اگر چہ اللہ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ نے تم پر فرض نہیں کیا مگر میں روزہ دار ہوں، سو جو وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔٢٠٠٤: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا :۲۰۰۴ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا۔عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نے ہمیں بتایا کہ ایوب سے مروی ہے۔انہوں نے اليَهُودَ تَصُوْمُ يَوْمَ عَاشُوْرَاءَ فَقَالَ مَا ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عبد الله بن سعید بن جبیر سے، انہوں نے اپنے باپ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ سے ، اُن کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى عہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو یہود کو دیکھا کہ وہ عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں۔آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں هَذَا قَالُوْا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا نے کہا : یہ بھلا دن ہے، یہ وہ دن ہے کہ اللہ نے نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيْلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ بنى اسرائیل کو اُن کے دشمن سے نجات دی تھی تو فَصَامَهُ مُرْسَى قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ روزہ رکھا تھا۔مِنْكُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ۔آپ نے فرمایا: پھر میں تو تم سے بڑھ کر حضرت موسیٰ يوم اطرافه ۳۳۹۷ ٣٩٤۳، ٤٦٨٠، ٤٧٣٧۔سے تعلق کا حق رکھتا ہوں۔چنانچہ آپ نے وہ روزہ رکھا اور اُس دن روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا۔