صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 611 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 611

صحيح البخاری جلد ۳ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۳۹ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۱۹۳۹ : ابو معمر (عبداللہ بن عمرو) نے ہم سے بیان عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ کیا کہ عبد الوارث (بن سعید ) نے ہمیں بتایا کہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اليب (سختیانی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عکرمہ سے عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ صَائِمٌ۔ نے پچھنے لگائے جبکہ آپ روزہ دار تھے۔ اطرافه: ۱۸۳۵ ، ۱۹۳۸، ۲۱۰۳، ۲۲۷۸، ۲۲۷۹، ٥٦۹۱، ٥٦٩٤، ٥٦٩٥، 66۷۰۰ ۰۰١٠٨٥٠ ٨٥٠ ١٩٤٠ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۱۹۴۰ : آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتَا الْبُنَانِيَّ نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے کہا: میں نے ثابت بنانی سے صلى الله عليه ۔ ل کے زمانہ میں ) قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ أَكُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ قَالَ سے پوچھا گیا: کیا تم لوگ (آنحضرت ہی لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ وَزَادَ شَبَابَةُ روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانا مکروہ مجھے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ، مگر کمزوری کی وجہ سے۔ اور شبابہ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ (اسی سند سے ) اتنا بڑھایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ -------- صلى الله کہ نبی علی کے زمانہ میں (ایسا کیا کرتے تھے۔) تشريح : الْحِجَامَةُ وَالْقَيْءُ لِلصَّائِمِ : اب مفطرات الصوم سے متعلق مسائل شروع ہوتے ہیں۔ یعنی وہ باتیں جن سے روزہ دار بے روزہ ہو جاتا ہے۔ یہ باب اس قسم کے مسائل کے بارہ میں قائم کیا گیا ہے۔ فقہاء نے دس باتیں مفطر قرار دی ہیں جن میں سے بموجب تشریح قرآن حکیم تین باتوں کا ذکر پہلے ہو چکا ہے جو محرمات ہیں۔ سب حسب ذیل ہیں: حلق سے یا بذریعہ حقنہ کھانے پینے کی اشیاء کا داخل ہونا یا بذریعہ قے باہر نکلنا ، خون کا نکلنا قے سے یا کچھنے سے ، حیض نفاس، جنون اور ارتداد - آخری چار صورتیں تو ظاہر ہیں۔ پہلی دو صورتوں کے بارہ میں اختلاف ہے۔ اس لئے عنوانِ باب میں فقہاء کے مختلف فتووں کا ذکر کرنے کے بعد مستند احادیث پیش کی گئی ہیں اور الفاظ الْأَوَّلُ الاصح سے بوضاحت رائے دی گئی ہے کہ پہلی روایت زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ جو شئے بطور دوا وغذا دی جائے گی، اس سے روزہ باطل ہوگا اور جو بطور دوا و غذا نہیں جائے گی وہ مفطرات میں شامل نہیں۔ اسی طرح خون اور غذا کے جسم سے نکلنے میں بھی اختلاف ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی دو مختلف روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پہلی روایت جو موقوف ہے اسے