صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 609 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 609

صحيح البخاری جلد ٣ 7+9 ٣٠ - كتاب الصوم تشريح الْمُجَامِعُ فِي رَمَضَانَ هَلْ يُطْعِمُ أَهْلَهُ مِنَ الْكَفَّارَةِ إِذَا كَانُوا مَحَاوِيْجَ: امام شافعی نے اپنی کتاب الام میں کفارہ کے تعلق میں یہ سوال اُٹھایا ہے کہ جب مال کسی کی ملکیت میں نہ ہو وہ بطور صدقہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔روایت زیر باب میں کھجور کی ٹوکری پر سائل کا قبضہ نہیں ہوا تھا۔اس لئے اُس کی طرف سے اپنے اہل وعیال کو کھجوروں کا دیا جانا صدقہ نہیں کہلا سکتا۔صدقہ کی تعریف اُس وقت اطلاق پاسکتی ہے۔جب اُس کے قبضہ میں آئی ہوں۔مذکورہ بالا شبہ کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں سپرد کر دینا ہی اس کو مالک قرار دیتا ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ہی اپنے اہل وعیال کو دینا وہ صدقہ کہلائے گی۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اُس کے اس فعل کو صدقہ میں شمار کیا ہے اور اس شبہ کا یہ بھی جواب دیا گیا ہے کہ خود آنحضرت ﷺ کی طرف سے ہی وہ صدقہ دیا گیا جو اُس کے گناہ کا کفارہ تھا۔چنانچہ بعض فقہاء نے آنحضرت مے کے اس طرز عمل سے یہ استدلال کیا ہے کہ عدم استطاعت کی صورت میں دوسر اشخص بھی صدقہ دے سکتا ہے۔( الأم، كتاب الصيام، باب الجماع في رمضان ، جزء ۲ صفحه ۹۸) ( فتح الباری ، شرح باب ۳۰ ، جزء ۴۰ صفحه ۲۱۹) واقعہ مذکورہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کریمہ کی شان بھی نمایاں ہے کہ ایک گنہ گار کے اعتراف کرنے پر آپ نے اُس کی کمزوری کو نظر تحقیر سے نہیں دیکھا بلکہ شفقت و احسان اور رحمت کا اظہار فرمایا ہے۔امام بخاری نے اس باب کا عنوان هل حرف استفہامیہ قائم کر کے اس کا جواب حذف کر دیا ہے اور لفظ المُجَامِعُ کو بطور مبتداء رکھ کر جملہ اسمیہ کو بغیر اُس کی خبر کے غیر مکمل چھوڑ دیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا فقیہانہ موشگافیاں نظر انداز کرنے کے قابل ہیں کہ وہ عقل و روحانی کم مائیگی پر دلالت کرتی ہیں۔باب ۳۲: الْحِجَامَةُ وَالْقَيْءُ لِلصَّائِمِ روزہ دار کا پچھنے لگانا اور قے کرنا وَقَالَ لِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا اور کي بن صالح نے مجھ سے کہا: معاویہ بن سلام نے ہم مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سے بیان کیا کہ نیچی نے ہمیں بتایا کہ عمر بن حکم بن ثوبان عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ سَمِعَ أَبَا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ اگر قے کرے تو روزہ نہ چھوڑے کیونکہ وہ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا قَاءَ فَلَا يُفْطِرُ نکالتا ہے داخل نہیں کرتا۔اور حضرت ابو ہریرہ سے یہ بھی إِنَّمَا يُخْرِجُ وَلَا يُزْلِجُ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي ذَکور ہے کہ وہ بے روزہ ہو جاتا ہے اور پہلی ( روایت ) هُرَيْرَةَ أَنَّهُ يُفْطِرُ وَالْأَوَّلُ أَصَحُ وَقَالَ زیادہ صحیح ہے اور حضرت ابن عباس اور عکرمہ نے کہا: ابْنُ عَبَّاسٍ وَعِكْرِمَةُ الصَّوْمُ مِمَّا دَخَلَ روزه ( ٹوتا ہے ) اُس چیز سے جو اندر جائے اور اُس چیز