صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 608 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 608

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۰۸ ٣٠ - كتاب الصوم بَاب ۳۱ : الْمُجَامِعُ فِي رَمَضَانَ هَلْ يُطْعِمُ أَهْلَهُ مِنَ الْكَفَّارَةِ إِذَا كَانُوا مَحَاوِيجَ کیا رمضان میں مباشرت کرنے والا اپنے گھر والوں کو کفارہ سے کھلائے اگر وہ محتاج ہوں؟ ۱۹۳۷ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي ۱۹۳۷ : عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، انہوں نے الزُّهْرِي عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ زہری سے، زہری نے حمید بن عبدالرحمن سے، انہوں عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ ایک رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شخص نبی ﷺ پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک بد بخت کے نے رمضان میں اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ہے۔ تو فَقَالَ إِنَّ الْآخِرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً قَالَ آپ نے فر نے فرمایا: کیا تمہیں اتنی طاف طاقت ہے کہ ایک آزاد کرو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپ ۔ آپ نے فرمایا: کیا تم برده لَا قَالَ فَتَشْتَطِيعُ أَنْ تَصُوْمَ شَهْرَيْنِ طاقت رکھتے ہو کہ لگا تار دو مہینے روزے رکھو؟ اُس مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا قَالَ أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس کی طاقت صلى الله عليه سِيْنَ مِسْكِيْنَا قَالَ لَا قَالَ فَأْتِيَ النَّبِيُّ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ؟ اُس نے کہا نہیں۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيْهِ تَمْرٌ (حضرت ابو ہریرہ نے) کہا: اتنے میں نبی ﷺ کے وَهُوَ الزَّبِيْلُ قَالَ أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ قَالَ پاس عرق لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں اور (عرق) عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا مَا بَيْنَ لَا بَتَيْهَا أَهْلُ کھجور کی ٹوکری کو کہتے ہیں۔ آپ نے کہا: یہ (کھجوریں) بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا قَالَ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ۔ اپنی طرف سے (مسکینوں کو) کھلا دو۔ اُس نے کہا: (کیا) اپنے سے زیادہ محتاج کو؟ ( مدینہ کے ) دونوں پتھر ملے میدانوں کے درمیان کوئی گھر والے ہم سے بڑھ کر محتاج نہیں ۔ آپ نے فرمایا: تو اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔ اطرافه: ١٩٣٦، ٢٦٠٠ ، ٥٣٦٨، ٦٠٨، ٦١٦٤ ، ٦٧٠ ، ٦٧١٠، ٦٧١١، ٦٨٢١۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ”اَفَتَسْتَطِيعُ ہے۔ (فتح الباری جزء ۴ حاشیہ صفحہ ۲۲۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔