صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 529 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 529

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۲۹ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد ١٨٥٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ۱۸۵۸ عبدالرحمن بن یونس نے ہم سے بیان کیا يُونُسَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ که حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن مُّحَمَّدِ بْنِ يُوْسُفَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یوسف سے محمد بن یوسف نے سائب بن یزید سے يَزِيدَ قَالَ حُجَّ بِي مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ۔ کے ساتھ مجھے حج کرایا گیا اور میں سات سال کا تھا۔ ١٨٥٩ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ :۱۸۵۹ : عمرو بن زرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ قاسم أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ الْجُعَيْدِ بن مالک نے ہمیں خبر دی ۔ بعید بن عبدالرحمن سے ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عمر بن عبدالعزیز سے میں ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُوْلُ لِلسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ نے سنا۔ وہ حضرت سائب بن یزید سے کہہ رہے تھے وَكَانَ قَدْ حُجَّ بِهِ فِي ثَقَلِ النَّبِيِّ اور حضرت سائب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه ٦٧١٢ ، ٧٣٣٠۔ بار برداری کے قافلہ میں حج کرایا گیا تھا۔ تشريح : حج الصبيان : عنوان باب میں بچوں کے جن کا ذکر تو کیا گیا ہےمگرکسی راے کا رائے کا اظہار نہیں۔ روایات اخر زیر باب سے بچوں پر حج فرض ہونے کا استنباط نہیں ہو سکتا۔ بچے اپنے اقرباء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے صلى شامل حج تھے۔ در اصل امام موصوف کے مد نظر مسلم کی ایک روایت ہے کہ آنحضرت علی عليه کو کو مقام مقام روحاء روحاء پر ایک قافلہ ملا۔ جس نے آپ کے دریافت کرنے پر بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور ایک عورت نے بچہ اُٹھا کر آپ سے پوچھا کہ کیا اس پر حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ وَلَكِ أَجْرٌ اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔ (مسلم، کتاب الحج، باب صفة حج الصبي) اس سے بعض فقہاء داؤ د ظاہری وغیرہ نے استدلال کیا ہے کہ جسے بچپن میں حج پر جانے کا موقع مل گیا ہو اور بڑا ہو کر وہ حج نہ کر سکے تو وہی حج کافی ہوگا ۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۱۶) مسلم کی روایت امام بخاری کی شرائط کے مطابق نہیں۔ اس بارہ میں جمہور فقہاء کا مذہب یہی ہے کہ بلوغت کے بعد حج فرض ہوتا ہے اور بچپن کا حج محض نفلی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۹۲) باب زیر عنوان کی روایت ( نمبر ۱۸۵۹) میں ذکر نہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے حضرت سائب سے کیا بات کہی۔ صرف صلى الله اصل مسئلہ کا ذکر ہے۔ یعنی یہ کہ حضرت سائب کو بھی بچپن میں حج کرنے کا موقع ملا جبکہ وہ آنحضرت علی کی رت علی کی بار برداری کے قافلہ میں تھے محولہ روایت کے باقی حصہ کے لیے دیکھئے کتاب کفارات الأيمان، روایت نمبر ۶۷۱۲۔ اس میں عہد مبارک میں صاع کتنا ہوتا تھا۔ کیونکہ ان کے زمانہ میں وزن زیادہ کر دیا گیا تھا۔ صلى الله ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں صاع