صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 492
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۹۲ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد ۲۸ - كِتَابُ جَزَاءِ الصَّيْدِ 0000000000 باب ۱ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور تم شکار نہ کرو؛ ایسی حالت میں کہ وَاَنْتُمْ حُرُم وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمُ تم محرم ہو اور تم میں سے جس نے عمد اشکار کیا تو بدلہ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءِ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ دینا ہوگا ؛ ویسا ہی جانور جیسا اس نے شکار کیا۔تم میں النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ سے دو انصاف والے اس کا فیصلہ کریں گے۔یہ بطور هَدْيًا بلغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ قربانی کے ہوگا جو مکہ پہنچے گی یا کفارہ چند مسکینوں کا طَعَامُ مَسكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِيَاماً کھانا یا اسی کے برابر روزے رکھے تا وہ اپنے کئے کی لِّيَذُوقَ وَبَالَ اَمْرِهِ عَفَا اللهُ عَمَّا سزا چکھے۔اللہ تعالیٰ نے درگذر فرما دیا؛ اس غلطی سے جو پہلے ہو چکی اور جس نے دوبارہ کی اللہ تعالٰی اس سے بدلہ لے گا اور اللہ غالب سزا دینے والا ہے۔تمہارے لئے دریائی شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا سَلَفَ وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللهُ مِنْهُ وَاللهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ ہے۔اس میں تمہارے لیے اور قافلہ کے لیے فائدہ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ ہے اور تم پر خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے جب تک کہ تم الْبَرِّ مَا دُمْتُمُ حُرُمَا وَاتَّقُوا الله احرام کی حالت میں ہو اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ۔تشریح (المائدة : ٩٦-٩٧) بچو۔جس کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ : عنوانِ باب میں صرف آیت پر اکتفا کیا گیا ہے اور اس کے بعد چار ابواب میں بحالت احرام شکار کے تعلق میں انتہائی تقویٰ کی صورتیں احادیث کی بناء پر بیان کی گئی ہیں۔یعنی بحالت احرام نہ خود شکار کرے، نہ غیر محرم کو مدد دے، نہ اشارہ کرے ( باب نمبر ۲ تا ۵ ) صحابہ کرام کا جو نمونہ ان ابواب