صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 470 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 470

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٦ - كتاب العمرة ضي بَابِ ١٥: الدُّخُولُ بِالْعَشِيَ شام کو ( گھر میں ) داخل ہونا ۱۸۰۰: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۱۸:۰۰ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ ہمام ( بن يحي ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسحق بن ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ عبد الله بن ابی طلحہ سے، اسحق نے حضرت انس دی اللہ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ كَانَ اپنے گھر والوں کے پاس رات کو اچانک نہیں آتے لَا يَدْخُلُ إِلَّا غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً۔تھے۔آپ صبح یا شام کو داخل ہوا کرتے۔بَاب ١٦ : لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ اپنے گھر والوں کے پاس اچانک رات کو نہ آتے ، جب مدینہ پہنچے ۱۸۰۱ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۱۸۰۱ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُّحَارِبِ عَنْ جَابِرٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محارب ( بن دثار ) سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْرُقَ أَهْلَهُ لَيْلًا۔انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی اپنے گھر والوں کے پاس رات کے وقت اچانک آئے۔رَضِيَ اطرافه : ٤٤۳۰، ۲۰۹۷، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ۲۳۹٤، ۲٤۰۶، ٢٤۷۰، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،۵۰۸۰ ،۵۰۷۹ ،۲۰۰۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲۹۶۷ ،۲۸۶۱ ،۲۷۱۸ ٥٢٤٣، ٥٢٤٤، ٥۲٤٥، ٥٢٤٦ ،٥٢٤٧ ٥٣٦٧ ٦٣٨٧۔تشریح : مَا يَقُولُ إِذَا رَجَعَ : اطلال، احرام اور دا داخلہ حرم کے بعد مکہ کم سے واپسی سے متعلق آداب کے بارہ میں یہ ابواب قائم کئے گئے ہیں۔باب نمبر ۱۲ میں تسبیح و تقدیس باری تعالیٰ اور دعائے مسنونہ۔باب نمبر ۱۳ میں حاجیوں کے استقبال اور باب نمبر ۱۴ ۱۵ میں شہر کے اندر آنے کے لئے مناسب اوقات کا ذکر ہے اور باب نمبر ۱۶ میں یہ ہدایت ہے کہ اپنے گھر والوں کے پاس اچانک واپس آنا آداب معاشرت کے خلاف ہے۔