صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 776
صحيح البخاری جلد ۲ 22Y بَابِ ۹۸ : ذِكْرُ شِرَارِ الْمَوْتَى بُرے مُردوں کی ( بُرائی ) بیان کرنا ٢٣ - كتاب الجنائز ١٣٩٤ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۱۳۹۴: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ کیا کہ انہوں نے کہا : ) عمرو بن مرہ نے مجھے بتایا۔انہوں ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ نے سعید بن جبیر سے سعید نے حضرت ابن عباس رضی أَبُو لَهَبٍ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله الله عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابولہب ملعون عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ فَنَزَلَتْ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آج سارا دن تیرے تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ اللهب : ٢)۔لئے بربادی رہے۔تب یہ آیت اتری : یعنی ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو گئے اور وہ خود بھی برباد ہو گیا۔اطرافه ٣٥٢٥، ۳٥٢٦، ٤۷۷۰، ٤۸۰۱، ٤۹۷۱ ٤٩٧٢ ٤٩٧٣۔تشریح: مَايُنهى مِنْ سَبِ الْاَمْوَاتِ : گالی دینے اور امر واقعہ بیان کرنے میں فرق ہے۔گالی میں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے۔یہی فرق ملحوظ رکھتے ہوئے دو باب مختلف عناوین سے قائم کیے گئے ہیں۔مثلاً یہ کہنا کہ ابو جہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں پرلے درجہ کی گری ہوئی فطرت کا اظہار کیا، قطعا گالی نہیں بلکہ امر واقعہ ہے۔ایسا ہی تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وتب بھی گالی نہیں، بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔لوگوں کی عادت تبر ابازی مد نظر رکھتے ہوئے یہ دونوں باب قائم کئے گئے ہیں۔اس مضمون کے تعلق میں دیکھئے ازالہ اوہام صفحہ ۸ تا ۲۰ ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۸ تا ۱۲۰۔