صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 772 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 772

صحيح البخاری جلد ۲ 22r ٢٣ - كتاب الجنائز ۱۳۹۲ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ ۱۳۹۲: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) جریر بن بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عبد الحمید نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) حصین عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن میمون اودی سے الْأَوْدِي قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مروی ہے۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ خطاب رضی اللہ عنہ کو (اس وقت) دیکھا (جب وہ زخمی اذْهَبْ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ عَائِشَةَ رَضِيَ ہوئے) تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمرؓ! ام المؤمنین اللهُ عَنْهَا فَقُلْ يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور کہو: عمر بن خطاب عَلَيْكِ السَّلَامَ ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أَدْفَنَ مَعَ آپ کو سلام کہتا ہے۔پھر ان سے دو ساتھیوں کے ساتھ صَاحِبَيَّ قَالَتْ كُنْتُ أُرِيْدُهُ لِنَفْسِي مجھے دفنائے جانے کی بابت ان سے اجازت مانگو۔فَلَأُوْثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي فَلَمَّا أَقْبَلَ حضرت عائشہ نے کہا: میں یہ جگہ اپنے لئے چاہتی تھی مگر قَالَ لَهُ مَا لَدَيْكَ قَالَ أَذِنَتْ لَكَ يَا آج میں ان کو اپنے نفس پر مقدم کروں گی۔جب حضرت أَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ قَالَ مَا كَانَ شَيْءٍ أَهَمَّ عبداللہ آئے۔حضرت عمر نے ان سے پوچھا: کیا خبر کے لئے اجازت دے دی ہے۔حضرت عمر نے کہا: مجھے ہے؟ تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین ! انہوں نے آپ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْجَعِ فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُوْنِي ثُمَّ سَلِمُوْا ثُمَّ قُلْ يَسْتَأْذِنُ جس قدر اس ٹھکانے کا فکر تھا اتنا اور کسی بات کا نہ تھا۔عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِنْ أَذِنَتْ لِي جب میں مر جاؤں تو مجھے اُٹھا کر لے جائیں۔پھر حضرت فَادْفِنُوْنِي وَإِلَّا فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ عائشہ کو سلام کہنا اور پوچھنا: عمر بن خطاب اجازت مانگتا الْمُسْلِمِيْنَ إِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ ہے۔اگر انہوں نے مجھے اجازت دے دی تو مجھے وہاں بهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِيْنَ فن کر دینا ورنہ مسلمانوں کے مقبرہ میں لے جانا۔دیکھو تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس خلافت کا حق دار میں ان چند لوگوں سے بڑھ کر کسی وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضِ فَمَنِ اور کو نہیں سمجھتا ، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اسْتَخْلَفُوْا بَعْدِي فَهُوَ الْخَلِيْفَةُ وفات کے وقت تک خوش رہے۔سو جس کو یہ لوگ میرے