صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 625 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 625

صحيح البخاری جلد ۲ تشریح ۶۲۵ ٢٣ - كتاب الجنائز الدُّخُولُ عَلَى الْمَيِّتِ بَعْدَ الْمَوْتِ إِذَا أُدْرِجَ فِي أَكْفَانِهِ: تخت وغیرہ کا خیال ہے کہ میت کو سوائے نہلانے والے اور اس کے رشتہ داروں کے اور کوئی نہ دیکھے۔اس قسم کے خیالات کے رڈ میں مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے (فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۱۴۸) حضرت عائشہ ، حضرت ام العلاء اور حضرت جابر کی روایتوں سے استدلال کیا گیا ہے کہ مرنے کے بعد میت کو جا کر دیکھنا بی اے کی عادت تھی۔روایت نمبر ۱۲۴۲٬۱۲۴۱ میں حضرت ابو بکر کے الفاظ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مونتین سے یہ مراد لی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوگا کہ زندہ کر کے پھر آپ پر موت وارد کی جائے۔جیسا کہ حضرت عمر و غیرہ کا خیال تھا کہ آپ تھوڑے عرصہ کے لئے فوت ہوئے ہیں دوبارہ زندہ ہو کر منافقین کا قلع قمع کریں گے اور دوسرے یہ کہ جہاں تک آپ کی جسمانی وفات کا تعلق ہے وہ تو ہو چکی مگر آپ کی روحانی موت کبھی نہ ہوگی آپ روحانی طور پر ہمیشہ کے لیے زندہ رسول ہیں اور آپ کی تعلیم بھی ہمیشہ کے لیے ہے، اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ : حضرت ابوبکر نے وَمَا مَحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔( آل عمران : ۱۳۵) سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر استدلال کیا ہے کہ یہ کوئی انوکھی بات نہ تھی۔اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام رسول فوت ہو چکے ہیں، آپ بھی فوت ہو جائیں گے۔قَدْ خَلَتْ کے معانی ہیں گزر گئے۔ان کا یہ گزرنا موت ہی کے ذریعہ سے ہوا ہے جیسا کہ آیت کے اگلے حصہ میں أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ کے الفاظ سے اس جگہ مرنے کی تشریح کر دی گئی ہے۔یعنی کیا اگر یہ مر جائے یا قتل کیا جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔اس سے پہلے بھی نبی گزرگئے کوئی طبعی موت سے اور کوئی غیر طبعی موت یعنی قتل وغیرہ سے۔قَدْ خَلَتْ کے بعد مات اور قُتِلَ سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ خلت سے وہی گزرنا مراد ہے جو طبعی یا غیر طبعی موت سے ہوا کرتا ہے۔اس مضمون کی تفصیل کے لیے دیکھئے: تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد نمبرے صفحہ ۹۳۔نیز تحفہ غزنویہ، روحانی خزائن جلد نمبر ۵ صفحه ۵۸۲) وَاللَّهِ مَا اَدْرِى وَاَنَا رَسُولُ اللهِ مَا يُفْعَلُ بِيٍّ: یہ بات آنحضرت ﷺ نے سورہ احقاف کی اس آیت کے مطابق فرمائی ہے: قُلْ مَا كُنتُ بِدُعَا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَا اَدْرِى مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمُ (الاحقاف: ١٠) تو کہہ دے میں رسولوں میں سے پہلا تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ مجھے سے اور تم سے کیا سلوک کیا جائے گا۔} یہ سورۃ سکی ہے اور اس کے بعد کی سورۃ فتح میں جو مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (الفتح:۳ ) ( تا کہ اللہ تجھے تیری ہر سابقہ اور ہر آئندہ ہونے والی لغزش بخش دے۔) اس آیت میں آپ کو کامل مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔اس لئے بعض شارحین کا خیال ہے کہ اس کے بعد آپ نے اپنے اور بعض اور صحابہ کے متعلق یقینی طور پر اطلاع دی کہ آپ اور وہ جنت میں داخل ہوں گے (فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۱۴۹) با وجود اس یقینی بشارت کے آیت فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُوَّةِ أَعْيُنِ (الجد :۱۸) کے مطابق تفصیلی طور پر سی و علم نہیں کہ حیات آخرت میں کیا کیا نعمتیں اور کیا کیا ترقیاں مقدر ہیں۔اجمالی علم اور تفصیلی علم کے درمیان بڑا فرق ہے۔آنحضرت علی سے متعلق مغفرت کی بشارت جو سورہ فتح میں وارد ہوئی ہے۔اس کی تشریح کے لئے دیکھئے کتاب التفسير ، سورۃ الفتح، باب ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبک۔