صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 604
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۰۴ ٢٢ - كتاب السهو رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ علی مِنَ اثْنَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ لَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُمَا ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور درمیان فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ میں بیٹھے نہیں۔جب آپ نماز ختم کر چکے تو آپ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ نے دو سجدے کئے۔پھر اس کے بعد سلام پھیرا۔اطرافه ۸۲۹، ۸۳۰، ۱۲۲۶، ۱۲۳۰، ٦٦۷۰۔تشریح مَا جَاءَ فِي السَّهُو : سہو کے معنے چوکنا، بھولنا (لسان العرب تحت لفظ سھو ) ارکان نماز میں بھولے سے اگر کمی بیشی ہو جائے تو حکم ہے کہ دو سجدے کرے اور استغفار کرے۔فقہاء کے درمیان یہ بحث ہوئی ہے کہ آیا سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد کیا جائے یا پہلے؟ امام شافعی کے نزدیک سلام پھیرنے سے قبل کرنا چاہیے جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک سلام پھیرنے کے بعد اور امام مالک کے نزدیک اگر نماز میں کوئی کمی ہوئی ہو تو اس کمی کو پورا کر کے سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کیا جائے اور اگر کوئی زیادتی ہوئی ہے یعنی بجائے چار کے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے۔( بداية المجتهد، كتاب الصلاة، الباب الثالث من الجملة الرابعة في سجود السهو، الفصل الثانى فى مواضع سجود السهو) اس باب میں جن واقعات کی مثالیں دی گئی ہیں۔ان میں التحیات کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بیٹھے اور اس طرح نماز میں کمی ہوئی جس کی وجہ سے آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کیا۔دوسرے باب میں جو واقعہ مذکور ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے چار کے پانچ رکعتیں پڑھیں اور آپ نے سلام کے بعد سجدہ سہو کیا۔اس سے امام مالک کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ان کی رائے معقول وجہ پر مبنی ہے۔بعض کے نزدیک کمی کا تدارک بذریعہ سجدہ سہو تکمیل کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے ہونا چاہیے اور زیادتی کا تدارک سلام کے بعد سوائے سجدہ سہو کے ممکن نہیں۔سلام کا اصل محل چوتھی رکعت کے اختتام پر ہے جو بوجہ کہو پانچویں رکعت کے بعد ہوگا۔اب اگر سجدہ سہو کے بعد سلام کو رکھا جائے تو وہ اپنے اصل محل سے اور زیادہ ہٹ جائے گا۔روایت نمبر ۱۲۲۴، ۱۲۲۵ ایک ہی واقعہ سے متعلق ہیں۔پہلی روایت میں کسی نماز کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں نماز ظہر کی صراحت ہے۔دونوں روایتیں سجدہ سہو کی صورت مکمل طور پر پیش کرتی ہیں۔یعنی سجدہ کرنے سے پہلے اللہ اکبر کہا جائے۔باب کی روایت نمبر ۱۲۲۶ کا تعلق ایک اور واقعہ سے ہے؛ جس میں ظہر کی نماز بجائے چار کے پانچ رکعتیں پڑھی گئی۔