صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 570 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 570

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۷۰ ۲۰ - كتاب فضل الصلاة فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتِ فَإِذَا دَخَلَ مقامِ ابراہیم کے پیچھے دور کعتیں پڑھتے اور دوسرے الْمَسْجِدَ كَرِهَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ حَتَّى اس دن جب مسجد قباء میں آتے اس میں ہر ہفتہ آیا يُصَلِّيَ فِيْهِ قَالَ وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ کرتے تھے۔جب مسجد میں داخل ہوتے تو ناپسند رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ کرتے کہ اس سے نکلیں تا وقتیکہ اس میں نماز نہ پڑھ لیں۔نافع نے کہا اور حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے تھے يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا۔اطرافه ۱۱۹۳، ١١٩٤، ٧٣٢٦۔کہ رسول الله له مسجد قباء کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے۔سواری پر بھی اور پیدل چل کر بھی۔۱۱۹۲ : قَالَ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّمَا ۱۱۹۲: ( نافع نے یہ بھی ) کہا اور ( حضرت ابن عمرؓر ) أَصْنَعُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَصْنَعُونَ کہتے تھے میں بھی اسی طرح کرتا ہوں جس طرح : وَلا أَمْنَعُ أَحَدًا أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَيِّ سَاعَةٍ میں نے اپنے ساتھیوں کو کرتے دیکھا اور میں کسی کو شَاءَ مِنْ لَيْلِ أَوْ نَهَارِ غَيْرَ أَنْ لَّا تَتَحَرَّوا منع نہیں کرتا۔رات کو یا دن کو ، جس وقت چاہیے طُلُوْعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا۔نماز پڑھے۔مگر قصد کر کے سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے کے وقت نماز نہ پڑھے۔اطرافه ۵۸۲، ۵۸۵، ۵۸۹، ۱۹۲۹، ۳۲۷۳ تشریح: مسجد قباء : مجد قبا مدینہ سے دو اڑھائی میل کے فاصلہ پر بنی عمروبن عوف کی بستی میں واقع ہے۔جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مہاجرین نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ مسجد پہلی اسلامی یادگار ہے۔اس بستی میں مسلمانوں کی ایک جماعت تھی جس سے ملنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتہ میں ایک بار تشریف لے جایا کرتے تھے اور ان کی مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔حضرت ابن عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے نہایت منبع تھے۔وہ بھی قباء جایا کرتے تھے۔وہاں ایک کنواں تھا جس کا نام بھی قباء تھا۔اسی کے نام سے یہ مسجد مشہور ہوگئی تھی۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ۸۹)