صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 535 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 535

بخاری جلد ۲ ۵۳۵ ١٩ - كتاب التهجد أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میرے باپ ( عروہ) نے عَنْهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ بتایا۔کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو رات کی کسی اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا نماز میں بھی بیٹھ کر قرآن پڑھتے نہیں دیکھا۔مگر جب فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّوْرَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ آپ بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر پڑھتے اور جب سورۃ أَرْبَعُوْنَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهُنَّ ثُمَّ رَكَعَ۔میں سے تھیں یا چالیس آیتیں باقی رہتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے اور انہیں پڑھ کر رکوع کرتے۔اطرافه ۱۱۱۸، ۱۱۱۹، ۱۱۶۱، ۱۱۶۸، ٤۸۳۷۔تشریح: قِيَامُ النَّبِيِّ الله بِاللَّيْلِ : عنوانِ باب سے ظاہر ہے کہ بی صلی اللہ علیہ وسل کی نماز تہجدکم و کیف میں ہمیشہ یکساں ہوتی۔باب ۱۰ میں گذر چکا ہے کہ آپ نماز تہجد دو دو رکعت کر کے پڑھا کرتے تھے۔مگر یہاں بظاہر اس کے خلاف ہے۔بعض نے اس اختلاف کو یوں دور کیا ہے کہ کبھی آپ نے چار چار کر کے بھی نماز تہجد پڑھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام مالک اور امام شافعی کے برخلاف امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ خواہ دو دو پڑھے خواہ چار چار یا تین تین یا چھ چھ کر کے پڑھے سب جائز ہے۔اول الذکر دونوں امام صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى سے استدلال کرتے ہیں۔گیارہ کی تعداد ہی صحیح معلوم ہوتی ہے جو آپ بالعموم دو دو کر کے پڑھتے اور آخر میں ایک وتر الگ پڑھتے۔یہاں چار چار سے بھی مراد غالبا یہ ہے کہ دودو کر کے دو سیٹ بناتے۔یعنی دو رکعات پڑھیں پھر دو پڑھیں پھر کچھ توقف کیا اور پھر دو دو کر کے چار پڑھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا جواب سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ وتر پڑھے بغیر سونا نہیں چاہیے۔کیونکہ نیند میں قلبی بیداری کی حالت دوسروں کو میسر نہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۴۳) باب ۱۷ : فَضْلُ الطُّهُوْرِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رات دن با وضور ہنے کی فضیلت وَفَضْلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْوُضُوْءِ بِاللَّيْلِ اور وضو کے بعد ؛ خواہ رات کو کیا ہو خواہ دن کو؛ (نفل) وَالنَّهَار۔نماز پڑھنے کی فضیلت۔١١٤٩ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرِ :۱۱۴۹ اسحق بن نصر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوحیان سے،