صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 533 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 533

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۳۳ بَاب ١٥ : مَنْ نَامَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَحْيَا آخِرَهُ ١٩ - كتاب التهجد جورات کے پہلے حصے ) میں سوئے اور اس کے آخری حصے ) میں جاگے وَقَالَ سَلْمَانُ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ اور حضرت سلمان (فارسی) نے حضرت ابو درداء رضی عَنْهُمَا نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ اللہ عنہما سے کہا: سو جاؤ۔جب پچھلی رات ہوئی تو کہا: قَالَ قُمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اٹھو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمان نے وَسَلَّمَ صَدَقَ سَلْمَانُ۔درست کہا۔١١٤٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :١١٤٦ ابو الولید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شُعْبَةُ - و حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا شعبہ نے ہمیں بتایا۔اور سلیمان (بن حرب) شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَن الْأَسْوَدِ نے بھی مجھ سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا انہوں نے ابو اسحق سے، ابو اسحق نے اسود سے روایت كَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی۔وہ کہتے تھے: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَهُ عنہا سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس طرح وَيَقُوْمُ آخِرَهُ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْجِعُ إِلى نماز پڑھتے ؟ انہوں نے جواب دیا: آپ پہلی رات فِرَاشِهِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ فَإِنْ سو جاتے اور پچھلی رات اُٹھتے اور نماز پڑھ کر پھر اپنے كَانَتْ بِهِ حَاجَةٌ اغْتَسَلَ وَإِلَّا تَوَضَاً بچھونے پر آجاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اُٹھ کھڑے ہوتے۔اگر آپ کو ضرورت وَخَرَجَ تشریح ہوتی تو نہاتے ورنہ وضو کرتے اور باہر چلے جاتے۔مَنْ نَامَ اَوَّلَ اللَّيْلِ وَاَحْى اخِرَهُ : رات کا کون سا حصہ عبادت کے لیے افضل ہے؟ اس کے جواب میں اختلاف کیا گیا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ سب اوقات یکساں ہیں۔اس بارہ میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت نمبر ۱۱۴۵ صحیح ترین ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابو دردا کی گفتگو کی طرف اشارہ کر کے ان کی روایت کی تصدیق کی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انصار اور مہاجرین کے درمیان مواخات قائم کی تو ان کو آپس میں بھائی بھائی بنایا تھا اور حضرت ابودر دائر ایک زاہد اور عابد شخص تھے۔ساری رات