صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 532 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 532

صحیح البخاري جلد ۲ ۵۳۲ ١٩ - كتاب التهجد ١١٤٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۱۱۴۵ عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مالک عَنْ مَّالِكِ عَن ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سے مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سَلَمَةَ وَأَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَغَرِ عَنْ أَبِي ( بن عبد الرحمن ) اور ابوعبداللہ الاغر سے، ان دونوں نے هُرَيْرَةَ لله أَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى الله حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہار ارتب جو بہت برکتوں والا اور وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا عظیم الشان ہے، ہر رات جبکہ آخری تہائی رہ جاتی ہے، حِيْنَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُوْلُ مَنْ قریب ترین آسمان پر اترتا ہے۔فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي کرتا ہے کہ میں قبول کروں۔کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں۔کون میری مغفرت کا طالب ہے کہ میں اسے فَأَعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ۔مغفرت سے نوازوں۔اطرافه: ٦٣٢١، ٧٤٩٤۔تشریح: الدُّعَاءُ وَالصَّلَاةُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ : یہ باب بھی باب نمبر11 کے تعلق کی وجہ سے ہی قائم کیا گیا ہے۔امام موصوف نے عنوانِ باب میں آیت کا حوالہ دے کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ متقیوں کی یہ علامت ہے کہ وہ رات کو کم سوتے ہیں۔اس آیت کے تحت روایت نمبر ۱۱۴۵ لاکر یہ سمجھایا ہے کہ آخری تہائی رات میں دعا خصوصیت سے قبول ہوتی ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ کسی اور وقت قبول نہیں ہوتی بلکہ بعض روایات میں پہلی تہائی اور آدھی رات کا بھی ذکر آتا ہے اور بعض میں رات کے کسی خاص حصے کا نہیں، بلکہ بالعموم رات کو جناب الہی کے نزول اور دعاؤں کی قبولیت کا وقت بتایا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۰) قرآن مجید ایک جگہ متقیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الذاريات: ۱۹) یعنی وہ جو سحری کے اوقات میں مغفرت طلب کرتے ہیں۔جیسے اس وقت اُٹھ کر عبادت کرنا مشکل ہے، ویسے ہی یہ وقت استجابت دعا میں اسی نسبت سے خصوصیت رکھتا ہے۔اس امر میں بہت اختلاف ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ترین آسمان پر نازل ہونے کے کیا معنے ہیں۔جبکہ حرکت و سکون جسم کی صفات ہیں اور اللہ تعالیٰ جسمانیت سے پاک ہے۔ابن العربی اس اعتراض کا ایک معقول جواب دیتے ہیں کہ لفظ نزول جس طرح اجسام پر اطلاق پاتا ہے، ویسے ہی معانی پر بھی پاتا ہے اور یہاں اس کی ذات کا انتر نامراد نہیں۔بلکہ اس کے افعال کا انترنا مراد ہے۔یعنی وہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ ایک عابد کی دعاؤں کے سننے کے لئے وہ نہایت قریب ہو جاتا ہے۔امام بخاری نے اس سے پہلے دو بابوں میں جو روایتیں نقل کی ہیں، وہ بطور تمہید کے ہیں اور ان سے یہ بتانا مقصود ہے کہ عربی زبان کس قسم کے استعارہ اور مجاز کی متحمل ہے۔دراصل ہر زبان میں ہی ایسے استعارات و تمثیلات استعمال ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا قریب ترین آسمان پر اُترنا بھی در حقیقت ایک استعارہ اور مجاز ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۴۰،۳۹)