صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 496 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 496

البخاري - جلد ۲ ۴۹۶ ۱ - كتاب تقصير الصلاة بَاب ١١: مَنْ لَّمْ يَتَطَوَّعْ فِي السَّفَرِ دُبُرَ الصَّلَاةِ وَقَبْلَهَا جوسفر میں (فرض ) نماز کے بعد یا پہلے سنتیں نہ پڑھے ۱۱۰۱ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ :1101 ہم سے یحی بن سلیمان (کوفی) نے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي کہا: ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عمر عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ بن محمد بن زید) نے مجھ سے بیان کیا کہ حفص بن عاصم قَالَ سَافَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نے کہا: حضرت ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سفر فَقَالَ صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا تو انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُ فِي السَّفَر وَقَالَ اللَّهُ رہا۔میں نے تو آپ کو سفر میں سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور جَلَّ ذِكْرُهُ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ الله جل ذکرہ نے فرمایا ہے: یقینا تمہارے لئے رسول اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: ٢٢)۔اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نیک نمونہ ہے۔۱۱۰۲ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۱۰۲ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا بسیجی نے ہمیں بتایا يَحْيَى عَنْ عِيْسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ که میلی بن حفص بن عاصم سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابن يَقُوْلُ صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عمرؓ کو یہ کہتے سنا۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ ہوں آپ سفر میں دو( فرض ) رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے عَلَى رَكْعَتَيْنِ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ تھے اور حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا) وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔كَذَلِكَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ۔اطرافه: ١٠٨٢، ١٦٥٥۔تشریح : لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ : شریعت جب کسی امر میں سہولت دے تواس سہولت کو قبول کرنا ہی دراصل شریعت کا احترام ہے۔مسلمان اپنے نفس کی خواہش سے کوئی عمل نہیں بجالاتا۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عبادت میں جس قد ریختی اپنے نفس پر کی جائے اس قدر زیادہ ثواب ہے۔یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے جس