صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 493 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 493

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۹۳ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ أَيْنَمَا پڑھتے خواہ وہ کسی طرف انہیں لے جارہی ہوتی ۔ تَوَجَّهَتْ يُومِيُّ وَذَكَرَ عَبْدُ اللهِ أَنَّ رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرتے اور حضرت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ۔ عبداللہ بن عمر نے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اطرافه: ۹۹۹ ۱۰۰۰، ۱۰۹۵، 1098، 1105۔ تشریح : الإِيمَاءُ عَلَى الدَّابَّةِ : جمور کا یہی مذہب ہے کہ سواری پر رکوع وسجدہ اشارے سے ہی کرے۔ فتح الباری جزء ثانی صفحه ۷۴۱ ) اسلام اسلام تکلیف مالا يطاق : مالا يطاق میں نہیں ڈ ں ڈالتا ۔ بلکہ اس نے مختلف حالات کی رعایت ------- رکھتے ہوئے سہولتیں دی ہیں اور عبادت کی قلبی کیفیت پیدا کرنے کے لئے انسان کو ہر حالت میں جسمانی حرکات کا پابند نہیں کیا بلکہ اسے بعض حالات میں جسمانی حرکات کی پابندی سے ایک حد تک آزاد کر کے سراسر معنوی کیفیات کے ساتھ اس کی روح کو جناب الہی میں جھکنے کا بھی موقع دیا ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۹۴۳) بَاب ۹ : يَنْزِلُ لِلْمَكْتُوبَةِ فرض نماز کے لئے سواری سے اتر پڑے ۱۰۹۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۱۰۹۷ یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ ليث (بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ہے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ رَأَيْتُ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ حضرت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عامر بن ربیعہ نے انہیں خبر دی، کہا: میں نے رسول عَلَى الرَّاحِلَةِ يُسَبِّحُ يُؤْمِنُ بِرَأْسِهِ قِبَلَ الله صلى اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ اپنی اونٹنی پرنفل أَيِّ وَجْهِ تَوَجَّهَ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ پڑھ رہے تھے۔ (رکوع اور سجدہ) اپنے سر کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي اشارے سے کرتے۔ آپ کا منہ اسی طرف ہوتا جدھر اس کا منہ ہوتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ۔ اطرافه: 1093، 1104۔ نماز میں ایسا نہ کرتے ۔