صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 475 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 475

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۵ ۱۷ - كتاب سجود القرآن جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيْدُ بْنُ حُصَيْفَةَ انہوں نے کہا: یزید بن خصیفہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنِ ابْنِ قُسَيْطِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ نے ابن قسیط سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ روایت کی کہ عطاء بن یسار نے انہیں خبر دی۔انہوں اللَّهُ عَنْهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّی نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ فَلَمْ يَسْجُدُ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔فِيهَا۔اطرافه ۱۰۷۳ ۱۰۷۳: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۱۰۷۳ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ قَالَ حَدَّثَنَا کہا: ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا: ہمیں يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عَطَاءِ يزيد بن عبد اللہ بن قسیط نے بتایا۔انہوں نے عطاء بْنِ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْن ثَابِتٍ قَالَ قَرَأْتُ بن یار سے، انہوں نے حضرت زید بن ثابت عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ والنجم پڑھی۔آپ نے اس میں وَالنَّجْمِ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيْهَا اطرافه: ۱۰۷۲۔سجدہ نہیں کیا۔تشریح : مَنْ قَرَعَ السَّجْدَةَ وَلَمْ يَسْجُدُ: سورۃ النجم فضل سورتوں میں سے ہے۔روایت نمبر ۱۰۷ کی بناء پر مالکی مفصل سورتوں میں سجدہ تلاوت کے قائل نہیں۔(بداية المجتهد۔كتاب الصلاة الثاني۔الباب التاسع في سجود القرآن۔فصل عدد عزائم سجود القرآن مگر ان کا یہ استدلال درست نہیں۔ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کسی وجہ سے سجدہ نہ کیا ہو۔مثلاً یہی بتانا مقصود ہو کہ یہ سجدہ واجب نہیں۔جیسا کہ امام شافعی نے اس سے یہ استدلال کیا ہے (فتح الباری جزء ثانی صفحہ 4 اے ) اور یہ استدلال قرین قیاس ہے کیونکہ آپ نے ایک دوسرے موقع پر سورۃ والنجم پڑھتے ہوئے سجدہ کیا تھا۔(روایت نمبر ۱۰۷۱،۱۰۷۰) اس باب میں مالکیوں کا رد ہے۔مفصل سورتوں میں سجدہ تلاوت اسی طرح مسنون ہے، جس طرح دوسری سورتوں میں۔