صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 463 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 463

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۳ ١٦ - كتاب الكسوف مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوْا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَاءِهِ الله تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف وَاسْتِغْفاره۔دلاتا ہے۔پس تم جب ایسا دیکھو تو ( اللہ تعالیٰ کے) ذکر کرنے اور اس سے دعا مانگنے اور مغفرت چاہنے کے لئے مضطرب ہو کر لیکو۔تشریح: يَخْشَى أَن تَكُونَ السَّاعَةُ: روایت نمبر ۵۹ء میں جو یہ آیا ہے کہ آپ ڈرے کہیں وہ گھڑی نہ ہو اس گھڑی سے مراد قیامت نہیں جیسا کہ علامہ ابن حجر" بعض علماء کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔اَنَّ الْمُرَادَ بِالسَّاعَةِ غَيْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَى السَّاعَةُ الَّتِي جُعِلَتْ عَلَامَةٌ عَلَى أَمْرٍ مِّنَ الْأُمُورِ۔۔۔۔فَلَعَلَّهُ خَشِيَ أَنْ يَكُونَ الكسوف مُقَدَّمَةً لِبَعْضِ الأَشْرَاطِ كَطُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۷۰۴) یہ کہ ساعۃ سے یہاں مراد یوم قیامت نہیں ہے بلکہ بعض امور کے ظہور کی علامت مراد ہے۔شاید آپ کو خوف ہوا کہ یہ کسوف بعض اشراط ساعۃ کا آغاز ہے جیسا کہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔} صحف قدیمہ خصوصاً انا جیل میں سورج کے تاریک ہونے اور ستاروں کے ماند پڑنے کی ایک مشہور پیشگوئی ہے (متی باب (۲۴) سورہ تکویر میں آفتاب انوار اسلامیہ کے عارضی طور پر پوشیدہ ہونے اور پھر اس کے طلوع کی ایک من مفصل پیشگوئی مع متعلقہ علامات مذکور ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر مؤلفہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تفسیر سورہ کہف زير آيت ما أظن الساعة قائمة جلد۲ صفحه ۴۵۱ وسورة التكوير زير آيت اذا الشمس كورت جلد ۸ صفحه ۱۹۸) احادیث نبویہ میں بھی یہ پیشگوئی مختلف پیرائیوں میں بیان کی گئی ہے اور جیسا کہ انجیل کی محولہ بالا پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ الساعة والی پیشگوئی کا تعلق مطابق پیشگوئی حضرت دانیال علیہ السلام دجال کے ظہور سے ہے۔ایسا ہی قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔قرآن مجید نے اس زمانہ کو جب یہ حادثہ رونما ہو گا شب تاریک سے تشبیہ دی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے ازالہ اوہام صفحہ ۱۹۹ تا ۲۱۵ طبع پنجم نیز روزنامه الفضل قادیان مورخه ۱۸ جنوری ۱۹۳۸ء صفحه ۴ تا ۶ جلد ۲۶ نمبر ۱۴۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن دیکھ کر مضطرب ہونا اور یہ خوف کہ کہیں وہ گھڑی نہ ہو، اس لئے تھا کہ آپ کا ذہن محولہ بالا پیشگوئی کی طرف گیا جو دجال کی وجہ سے مسلمانوں کی تباہی سے تعلق رکھتی ہے۔جیسا کہ علامہ ابن حجر نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے چنانچہ جو کشف آپ نے دیکھا اور تقریر فرمائی۔اس سے الساعۃ کی تشریح ہوتی ہے اور اس سبب کا پتہ چلتا ہے جس کی وجہ سے آپ کو تشویش ہوئی۔اس تعلق میں باب نمبر 9 اور نمبر 1 کی تشریح بھی دیکھئے نیز عنوان باب میں مذکور حضرت ابن عباس کی روایت کے لیے روایت نمبر ۱۰۵۲ د یکھئے۔