صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 389
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۸۹ ١٤ - كتاب الوتر ٩٩٣: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ٩٩٣: حي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي (عبدالله) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمرو عَمْرُو أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ( بن حارث ) نے مجھے بتایا کہ عبدالرحمن بن قاسم نے حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عُمَرَ ان کو بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔انہوں نے صَلَاةُ اللَّيْل مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ رَكْعَةً تُوْتِرُ لَكَ مَا رَکھتیں ہیں، پس جب تم نماز سے فارغ ہونا چاہو تو صَلَّيْتَ قَالَ الْقَاسِمُ وَرَأَيْنَا أَنَاسًا مُنْذُ ایک رکعت پڑھ لو، وہ تمہاری اس نماز کو جو تم نے پڑھی أَدْرَكْنَا يُوتِرُوْنَ بِثَلَاثٍ وَإِنَّ كُلَّا ہے طاق کر دے گی۔قاسم کہتے تھے: جب سے ہم لَوَاسِعٌ أَرْجُو أَنْ لَّا يَكُوْنَ بِشَيْءٍ مِنْهُ نے ہوش سنبھالا ہے لوگوں کو تین رکعت ہی وتر پڑھتے دیکھا ہے اور ہر طرح ہی جائز ہے اور میں امید رکھتا بَأْسٌ۔ہوں کہ کسی میں بھی حرج نہیں۔اطرافه ،٤۷۲، ٤۷۳، ۹۹۰، ۹۹۵، ۱۱۳۷۔٩٩٤ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۹۹۴ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا : شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ نے ہمیں بتایا۔زہری سے مروی ہے۔انہوں نے أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى عروہ بن زبیر ) سے روایت کی کہ حضرت عائشہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى نے انہیں بتایا۔رسول اللہ نے گیارہ رکعتیں پڑھا عَشْرَةَ رَكْعَةً كَانَتْ تِلْكَ صَلَاتَهُ تَعْنِي کرتے تھے۔یہی آپ کی نماز تھی۔اس سے حضرت بِاللَّيْلِ فَيَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ عائشہ کی مراد رات کی نماز ہے۔اس نماز میں آپ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِيْنَ آيَةً قَبْلَ أَنْ اتنی دیر سجدہ کرتے کہ آپ کے سر اٹھانے سے پہلے يَرْفَعَ رَأْسَهُ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ تم میں سے کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے اور فجر کی نماز الْفَجْرِ ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِهِ الْأَيْمَنِ سے پہلے آپ دورکعتیں پڑھا کرتے تھے۔پھر آپ